ماہ شعبان کی فضیلت اور مسلم معاشرہ
ماہ شعبان بڑی فضیلتوں اور بر کتوں کا مہینہ ہے اس مہینہ کا چاند نکلتے ہی رمضان المبارک کا احساس قلب مومن میں بیدار ہو جاتا ہے اس کی فضیلت و برکت سے قلب مومن کو تاز گی محسوس ہوتی ہے اوراس طرح وہ رمضان المبارک کی تیاری میں مصروف ہو جاتا ہے ۔ اس مہینہ کی فضیلت احادیث مبارکہ سے ثابت ہے ۔حضر ت عائشہ ؓ فر ماتی ہیں کہ میں نے رمضان کے علاوہ رسو ل اللہ ﷺ کو کبھی پورے مہینے کے روزے رکھتے نہیں دیکھا سوائے شعبان کے کہ اس کے تقریباً پورے دنوں میں آپ روزہ رکھتے تھے۔ (بخاری ) حضرت اسامہ بن زید ؓ فر ماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سوال کیا کہ میں نے آپ ﷺ کو شعبان سے زیادہ کسی اور مہینہ میں نفلی روزہ رکھتے نہیں دیکھا ۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ یہ رجب اور رمضان کے درمیان ایک مہینہ ہے جس کی بر کت سے لوگ غافل ہیں اس ماہ میں اللہ تعالی کے سامنے اعمال پیش کیے جاتے ہیں میری خواہش ہے کہ میرے اعمال اس حال میں پیش ہو ں کہ میں رو زہ سے رہوں ۔ ( نسائی )
اس مہینہ کی پندرہویں رات کو شب برات کہتے ہیں جس کہ معنی نجات پانے کی رات ہیں ۔ کیونکہ اس رات کو بے شمار گنہگاروں کو معاف کیا جاتا ہے اس لئے اس رات کو شب برات کہتے ہیں، اس رات کی فضیلت کے متعلق تقریباً ۱۷ صحابہ اکرام ؓ سے احادیث مروی ہیں جن میں سے بعض صحیح ہیں۔ حضرت معاذ بن جبل ؓ ر وایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ فرمایااللہ تعالی پندرہویں شب میں تمام مخلوق کی طرف تجلی فرماتا ہے، مشرک اور بغض رکھنے والوں کے سوا ساری مخلوق کی مغفرت فرماتا ہے ( طبرانی)حضرت عثمان بن ابی العاص سے روایت ہے کہ رسو ل اللہ ﷺ نے فرمایا پندرہویں شب میں اللہ تعالی کی طرف آواز لگائی جاتی ہے کہ کوئی مغفرت مانگنے والا ہے کہ اس کہ گناہوں کو معاف کروں ، ہے کوئی سوال کرنے والا کہ میں عطا کروں ۔ ہر سوال کرنے والے کو میں عطا کرتا ہوں ، سوائے مشرک اور زنا کرنے والے کے ( بیہقی) حضرت عائشہ ؓ روایت کر تی ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا بیشک اللہ تعالی پندرہویں شعبان کی شب کو نچلے آسمان پر نزول فرماتا ہے اور قبیلہ کلب کی بکریوں کے بالوں کی تعداد میں لوگو ں کی مغفرت فرماتا ہے اس رات میں بے شمار لوگوں کی مغفرت کی جاتی ہے مگر مشرک ، عداوت کرنے والے، رشتہ تو ڑنے والے ، تکبرانہ طور پر ٹخنوں سے نیچے کپڑا پہننے والے ، والدین کی نا فرمانی کر نے والے اور شراب پینے والے کی طرف اللہ تعالی کی نظر کرم نہیں ہو تی۔ ( ترمذی) ان احادیث کی روشنی میں شب برات میں درج ذیل اعمال صالحہ کا انفرادی طور پر خاص اہتمام کر نا چاہیے۔
۱۔ عشاء اور فجر کی نمازیں وقت پر ادا کرنا ۔۲۔ نفل نماز یں خاص کر نماز تہجد ادا کرنا ۔ ۳۔ صلوۃ التسبیح پڑھنا ۔ ۴۔ قرآن کی تلاوت کرنا ۔۵۔اللہ کا ذکر کرنا۔ ۶۔ دعائے مغفرت کا اہتمام کر نا ۔ ۷۔ اللہ سے خوب توبہ کر نا ۔ ۸۔ کسی کسی شب برات میں قبرستان جانا اور دعائے مغفرت کرنا۔ لیکن ہر شب برات میں قبرستان جانے کا خاص اہتمام کرنا کوئی ضروری نہیں کیونکہ حضور ﷺ سے صرف ایک مرتبہ اس رات میں قبرستان جا نا ثابت ہے ۔ ۹۔ اس رات میں انفرادی عبادت کرنا چاہیے لہذا حتی الامکان اجتماعی عبادتوں سے اپنے آپ کو دور رکھنا چاہیے۔ کیونکہ نبی ﷺ سے اس رات میں اجتماعی طور پر کوئی عبادت ثابت نہیں ہے ۔
اسلام ایک مکمل نظام حیات ہے اسی سے انسان کو مکمل رہنمائی ملتی ہے ،شریعت میں جاہلی رسومات ، بدعات و خرافات کی کوئی گنجائش نہیں ،انسان اسلامی تعلیمات کی مکمل پیروی کرکے دنیوی اور اخروی کامیابی حاصل کر سکتا ہے لیکن جاہلی رسومات و بدعات کو اپنا کر کبھی فلاح نہیں پا سکتا ہے ۔اسلام خدا کا پسندیدہ مذہب ہے یہ تمام بدعات و خرافات اور غیر اسلامی رسو مات کی تردید کر تا ہے ۔ اور اللہ تعالی اور اس کے رسول کی مکمل پیروی کی دعوت دیتا ہے ۔ لہذااس با برکت مہینہ میں چند غیر ا سلامی رسومات سے اجتناب ضروری ہے تاکہ یہ رات زحمت کے بجائے ہمارے لئے رحمت ثا بت ہو ۔ اور اللہ کی خوشنودی کے بجائے ناراضگی سبب نہ ہو ، لہذا مندرجہ ذیل اعمال احادیث سے ثابت نہیں ۔۱۔ حلوا پکانا ۔ ۲۔ آتش بازی کرنا ۔۳۔ قبرستان میں عورتوں کا جانا۔ ۴۔ اجتماعی طور پر قبرستان جانا ۔۵۔قبرستان میں چراغاں کرنا ۔ ۶۔ مختلف قسم کے ڈیکوریشن کا اہتمام کرنا۔ ۷ ۔ عورتوں اورمردوں کا اختلاط کر نا ۔ ۸۔ قبروں پر چادر چڑھانا ۔اللہ تعالی ہمیں صراط مستقیم پر چلنے کی توفیق عنایت فرمائے اور اس مہینہ اور شب برات کی قدر کرنے اور عبادت و تلاوت اور توبہ و استغفار کی توفیق مر حمت فرمائے اور غیر اسلامی رسومات و بد عات و خرافات سے ہماری مکمل حفا ظت فر مائے۔
No comments:
Post a Comment