Followers

Saturday, April 4, 2020

اداریہ تعمیر افکار


محبت مجھے ان جوانوں سے ہےستاروں پہ جو ڈالتے ہیں کمند


دنیوی نظام میں خام مال کا سقم اور عمدہ چیز کا حسن ہر ایک پر آشکارا ہے، خدا کا تکوینی نظام ہے کہ ہمیشہ نفع بخش چیز باقی رہتی ہے، اور بے حیثیت چیز کنارہ جا لگتی ہے، اللہ کا یہ قانون جامد اور غیر جامد تمام اشیاء میں یکساں ہے، معمولی قیمت کا قلم اگر روشنائی سے بھرا ہو تو انسان دل کے پاس رکھتا ہے، اور اگر روشنائی ختم ہوجائے تو کوڑے دان میں بھی جگہ باقی نہیں رہتی۔ زمین پر پڑی بے حیثیت لکڑی ہر کسی کے قدم سے روندی جاتی ہے، لیکن جب انسان کے کان میں خارش ہو اور کوئی چیز نہ ملے تو اس وقت وہ حقیر لکڑی ہزاروں روپیے سے قیمتی بن جاتی ہے۔ ٹھیک اسی طرح دنیا کی جو قومیں انسانیت کے لیے نفع بخش ہوتی ہیں، وہ تیزوتند باد مخالف اور بھیانک طوفان کے بھنور کا کبھی شکار نہیں ہوتیں، بلکہ وہ ہمیشہ منصہ شہود پر باقی رہتی ہیں اور یکساں طور پر پوری انسانیت ان کی نافعیت تسلیم کرتی ہے۔ اورجو قومیں حقیر نظریات کی حامل یا فاسد مادہ سے تشکیل پاتی ہیں، ان کا وجود ہی چند سالوں میں کالعدم ہوجاتا ہے۔
ہماری دانست میں امت مسلمہ تاریخ کی واحد ایسی قوم ہے، جس نے روزِ اول سے مخالفت کا سامنا کیا، سازشوں کا مقابلہ کیا، مگر تمام کلفتوں کے باوجود اس کی روشنی آج بھی تاباں ہے۔اس کامیابی کی پہلی اور بنیادی وجہ خدا کی جانب سے وعدۂ حفاظت ہے، پھر مسلمانوں کی جہد مسلسل، ان کا اخلاص اور عزم و ہمت بھی۔ تاریخ شاہد ہے کہ ہمیشہ امت مسلمہ میں ایسی انقلابی شخصیات پیدا ہوتی رہی ہیں جنہوں نے وقت کا دھارا بدل دیا۔ غور کیا جائے تو یہی شخصیات ہمارا بہترین اور لائق فخر مال ہیں، اور یہی شخصیات امت مسلمہ کے نفع بخش ہونے کا زندہ ثبوت ہیں۔ ان کی زندگیاں ہمارے لیے قابل عبرت ہیں۔
موجودہ دور میں ظاہری طور پر اگر ہم تعلیمی، اقتصادی، سماجی، رفاہی اور سیاسی میدانوں میں جائزہ لیں، تو ہمیں نظر آتا ہے کہ آج ایسی شخصیات عنقا ہیں، جنہیں امت کا اوریجنل مال اور بہترین سرمایہ تصور کیا جاسکے۔ افسوس کی بات ہے کہ عموماًاہم مناصب پر فائز مسلم چہرے بھی آج اسلام کی ترجمانی سے محروم ہیں، اور مغربی افکار کے حامل و شیدائی ہیں۔یہی وجہ ہے کہ آج امت مسلمہ اقوام عالم میں اپنی نافعیت کا ثبوت پیش کرنے سے قاصر ہے اور چہار جانب سے دشمنوں کا لقمہ تر بنی ہوئی ہے۔ ظاہر بات ہے کہ اس میں ہماری کوتاہی کا دخل ہے، یہ تو اسلام کی خوبی ہے کہ اس کی فطرت میں بلندی مقدر ہے، ورنہ اگر امت مسلمہ آسمانی پیغام کی نسبت نہ رکھتی ہوتی تو نہ جانے کب کا وجود مٹ چکا ہوتا۔ مگر ہمیں محض اس نسبت پر مطمئن ہونے کی ضرورت نہیں ہے، بلکہ فکر کی ضرورت ہے کہ آخر پانی کہاں مر رہا ہے، ہم سے کون سی ایسی چوک ہورہی ہے کہ تمام تر کوششوں کے باوجود ہم اپنی نافعیت پیش کرنے سے قاصر ہیں۔
اس سلسلہ میں سب سے پہلی اور مؤثر فکر یہ ہے کہ ہم ایسا معاشرہ تشکیل دیں جس میں نسل نو فکری طور پر مسموم فضاؤں سے محفوظ ہو، اس کی سوچ بیدار ہو اور ذہن اسلامی ہو، اس کا عقیدہ سلامت ہو اور ایمان پختہ ہو، اس کی طبیعت میں دینداری ہو اور مزاج میں نرمی ہو، اسے اسلامی تعلیمات پر پورا انشراح ہو اور وہ اسلامی اخلاق کی حامل ہو، وہ زہریلے نصاب سے باخبر ہو اور تعمیری نصاب کی علم بردار ہو، وہ سوشل میڈیا کے مفید پہلوؤں سے واقف اور اس کی محرک ہو اور اس کے مضر پہلوؤں سے مجتنب ہو۔واقعہ یہ ہے کہ موجودہ دور میں اس کام کی بڑی اہمیت ہے، اگر ہم نے نسل نو کو مادیت کی ہوس میں بے مہار چھوڑ دیا تو تاریخ میں ہمارا نام ایک ظالم کی حیثیت سے شمار ہوگا، اور اگر ہم نے کچھ صبر سے کام لیا اور نسل نو کی نشو و نما میں کلیدی کردار نبھادیا تو امید ہے کہ آنے والی نسل دنیائے عالم میں اسلام کے پھریرے لہرنے کا نظارہ کرے گی۔
پیش نظر رسالہ سہ ماہی ’’تعمیر افکار‘‘ کی کوشش ہے کہ وہ قارئین تک ایسا مواد پہنچائے جو نسل نو کی نشو ونما میں مؤثر کردار ادا کرے، ہمیں امید ہے کہ اس رسالہ میں قارئین کو ان کی مطلوبہ چیزیں حاصل ہوں گی، اور وہ اس پر عمل بھی کریں گے،اور یہی رسالہ کا مشن ہے۔

No comments:

Post a Comment

اسلاف کا شوق مطالعہ ۔۔۔۔۔۔مگر وہ علم کے موتی کتابیں اپنے آباء کی !محمد قمر الزماں ندوی ۔۔۔۔۔۔

اسلاف کا شوق مطالعہ ۔۔۔۔۔۔ مگر وہ علم کے موتی کتابیں اپنے آباء کی ! محمد قمر الزماں ندوی ۔۔۔۔۔۔ مدرسہ نور الاسلام موئی کلاں کنڈہ پرتاپگڑھ 95...