Followers

Saturday, April 4, 2020

ماہ شعبان کی فضیلت اور مسلم معاشرہ



ماہ شعبان کی فضیلت اور مسلم معاشرہ



ماہ شعبان بڑی فضیلتوں اور بر کتوں  کا مہینہ ہے اس مہینہ کا چاند نکلتے ہی رمضان المبارک کا احساس قلب مومن میں بیدار ہو جاتا ہے اس کی فضیلت و برکت سے قلب مومن کو تاز گی محسوس ہوتی ہے  اوراس طرح وہ رمضان المبارک کی تیاری میں مصروف ہو جاتا ہے ۔  اس مہینہ کی فضیلت احادیث مبارکہ سے ثابت ہے ۔حضر ت عائشہ ؓ فر ماتی ہیں کہ میں نے رمضان کے علاوہ رسو ل اللہ ﷺ کو کبھی پورے  مہینے کے روزے رکھتے نہیں دیکھا سوائے شعبان کے کہ اس کے تقریباً پورے دنوں میں آپ روزہ رکھتے تھے۔  (بخاری ) حضرت اسامہ بن زید ؓ فر ماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سوال کیا کہ میں نے آپ ﷺ  کو شعبان سے زیادہ کسی اور مہینہ میں نفلی روزہ رکھتے نہیں دیکھا ۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ یہ رجب اور رمضان کے درمیان ایک مہینہ ہے جس کی بر کت سے لوگ غافل ہیں  اس ماہ میں اللہ تعالی کے سامنے اعمال پیش کیے جاتے  ہیں میری خواہش ہے کہ میرے  اعمال اس حال میں پیش ہو ں کہ میں رو زہ سے رہوں ۔  ( نسائی )
اس مہینہ کی پندرہویں رات کو شب برات کہتے ہیں جس کہ معنی نجات پانے کی رات ہیں ۔ کیونکہ اس رات کو بے شمار گنہگاروں کو معاف کیا جاتا ہے اس لئے  اس رات کو شب برات کہتے  ہیں، اس رات کی فضیلت کے متعلق تقریباً ۱۷ صحابہ اکرام ؓ سے احادیث مروی ہیں جن میں سے  بعض صحیح ہیں۔ حضرت معاذ بن جبل ؓ ر وایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ فرمایااللہ تعالی  پندرہویں شب میں تمام مخلوق کی طرف تجلی فرماتا ہے،  مشرک اور بغض رکھنے والوں کے سوا ساری مخلوق کی مغفرت فرماتا  ہے ( طبرانی)حضرت عثمان بن ابی العاص سے روایت ہے کہ رسو ل اللہ ﷺ نے فرمایا   پندرہویں شب میں اللہ تعالی کی طرف آواز لگائی جاتی ہے کہ کوئی مغفرت مانگنے والا ہے کہ اس کہ  گناہوں کو معاف کروں ، ہے کوئی سوال کرنے والا کہ میں عطا کروں ۔ ہر سوال کرنے والے کو میں عطا کرتا ہوں ، سوائے مشرک اور زنا  کرنے والے کے ( بیہقی) حضرت عائشہ ؓ روایت کر تی ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا  بیشک اللہ تعالی پندرہویں  شعبان کی شب کو نچلے آسمان پر نزول فرماتا ہے اور قبیلہ کلب کی بکریوں کے بالوں کی تعداد میں لوگو ں کی مغفرت فرماتا  ہے اس رات میں بے شمار لوگوں کی مغفرت کی جاتی ہے مگر مشرک ، عداوت کرنے والے، رشتہ تو ڑنے والے ، تکبرانہ طور پر ٹخنوں سے نیچے کپڑا  پہننے والے ، والدین کی نا فرمانی کر نے والے اور شراب پینے والے کی طرف اللہ تعالی کی نظر کرم نہیں ہو تی۔ ( ترمذی)  ان احادیث کی روشنی میں شب برات میں درج ذیل اعمال صالحہ کا انفرادی طور پر خاص اہتمام کر نا چاہیے۔
۱۔ عشاء اور فجر کی نمازیں  وقت  پر ادا کرنا ۔۲۔ نفل نماز یں خاص کر نماز تہجد ادا کرنا ۔ ۳۔ صلوۃ التسبیح پڑھنا ۔ ۴۔ قرآن کی تلاوت کرنا ۔۵۔اللہ کا ذکر کرنا۔ ۶۔ دعائے مغفرت کا اہتمام کر نا ۔ ۷۔ اللہ سے خوب توبہ کر نا ۔ ۸۔ کسی کسی شب برات میں قبرستان جانا  اور دعائے مغفرت کرنا۔  لیکن ہر شب برات میں قبرستان جانے کا خاص اہتمام کرنا کوئی ضروری نہیں کیونکہ حضور ﷺ سے صرف ایک مرتبہ اس رات میں قبرستان جا نا ثابت ہے ۔ ۹۔ اس رات میں انفرادی عبادت کرنا چاہیے لہذا حتی الامکان اجتماعی عبادتوں سے اپنے آپ کو دور رکھنا چاہیے۔ کیونکہ نبی ﷺ سے اس رات میں اجتماعی طور پر کوئی عبادت ثابت نہیں ہے ۔
اسلام ایک مکمل نظام حیات ہے اسی سے انسان کو مکمل رہنمائی ملتی ہے ،شریعت میں جاہلی رسومات ، بدعات و خرافات کی کوئی گنجائش نہیں ،انسان اسلامی تعلیمات کی مکمل پیروی کرکے دنیوی اور اخروی کامیابی حاصل کر سکتا ہے لیکن جاہلی رسومات و بدعات کو اپنا کر کبھی فلاح نہیں  پا سکتا ہے ۔اسلام خدا کا پسندیدہ مذہب ہے یہ تمام بدعات و خرافات اور غیر اسلامی رسو مات کی تردید کر تا ہے ۔ اور اللہ تعالی اور اس کے  رسول کی مکمل پیروی کی دعوت دیتا ہے ۔  لہذااس با برکت مہینہ میں چند غیر ا سلامی رسومات سے اجتناب ضروری ہے تاکہ یہ رات زحمت کے بجائے ہمارے لئے رحمت ثا بت ہو ۔ اور اللہ کی خوشنودی کے بجائے ناراضگی سبب نہ ہو ، لہذا مندرجہ ذیل اعمال احادیث سے ثابت نہیں ۔۱۔ حلوا پکانا ۔ ۲۔ آتش بازی کرنا ۔۳۔ قبرستان میں عورتوں کا جانا۔ ۴۔ اجتماعی طور پر قبرستان جانا ۔۵۔قبرستان میں چراغاں کرنا ۔ ۶۔ مختلف قسم کے ڈیکوریشن کا اہتمام کرنا۔ ۷ ۔ عورتوں اورمردوں کا اختلاط کر نا ۔ ۸۔ قبروں پر چادر چڑھانا ۔اللہ تعالی  ہمیں صراط مستقیم پر چلنے کی توفیق عنایت فرمائے اور اس مہینہ اور شب برات کی قدر کرنے اور عبادت و تلاوت اور توبہ و استغفار کی توفیق مر حمت فرمائے اور غیر اسلامی رسومات و بد عات و خرافات سے ہماری مکمل حفا ظت فر مائے۔
     


اداریہ تعمیر افکار


محبت مجھے ان جوانوں سے ہےستاروں پہ جو ڈالتے ہیں کمند


دنیوی نظام میں خام مال کا سقم اور عمدہ چیز کا حسن ہر ایک پر آشکارا ہے، خدا کا تکوینی نظام ہے کہ ہمیشہ نفع بخش چیز باقی رہتی ہے، اور بے حیثیت چیز کنارہ جا لگتی ہے، اللہ کا یہ قانون جامد اور غیر جامد تمام اشیاء میں یکساں ہے، معمولی قیمت کا قلم اگر روشنائی سے بھرا ہو تو انسان دل کے پاس رکھتا ہے، اور اگر روشنائی ختم ہوجائے تو کوڑے دان میں بھی جگہ باقی نہیں رہتی۔ زمین پر پڑی بے حیثیت لکڑی ہر کسی کے قدم سے روندی جاتی ہے، لیکن جب انسان کے کان میں خارش ہو اور کوئی چیز نہ ملے تو اس وقت وہ حقیر لکڑی ہزاروں روپیے سے قیمتی بن جاتی ہے۔ ٹھیک اسی طرح دنیا کی جو قومیں انسانیت کے لیے نفع بخش ہوتی ہیں، وہ تیزوتند باد مخالف اور بھیانک طوفان کے بھنور کا کبھی شکار نہیں ہوتیں، بلکہ وہ ہمیشہ منصہ شہود پر باقی رہتی ہیں اور یکساں طور پر پوری انسانیت ان کی نافعیت تسلیم کرتی ہے۔ اورجو قومیں حقیر نظریات کی حامل یا فاسد مادہ سے تشکیل پاتی ہیں، ان کا وجود ہی چند سالوں میں کالعدم ہوجاتا ہے۔
ہماری دانست میں امت مسلمہ تاریخ کی واحد ایسی قوم ہے، جس نے روزِ اول سے مخالفت کا سامنا کیا، سازشوں کا مقابلہ کیا، مگر تمام کلفتوں کے باوجود اس کی روشنی آج بھی تاباں ہے۔اس کامیابی کی پہلی اور بنیادی وجہ خدا کی جانب سے وعدۂ حفاظت ہے، پھر مسلمانوں کی جہد مسلسل، ان کا اخلاص اور عزم و ہمت بھی۔ تاریخ شاہد ہے کہ ہمیشہ امت مسلمہ میں ایسی انقلابی شخصیات پیدا ہوتی رہی ہیں جنہوں نے وقت کا دھارا بدل دیا۔ غور کیا جائے تو یہی شخصیات ہمارا بہترین اور لائق فخر مال ہیں، اور یہی شخصیات امت مسلمہ کے نفع بخش ہونے کا زندہ ثبوت ہیں۔ ان کی زندگیاں ہمارے لیے قابل عبرت ہیں۔
موجودہ دور میں ظاہری طور پر اگر ہم تعلیمی، اقتصادی، سماجی، رفاہی اور سیاسی میدانوں میں جائزہ لیں، تو ہمیں نظر آتا ہے کہ آج ایسی شخصیات عنقا ہیں، جنہیں امت کا اوریجنل مال اور بہترین سرمایہ تصور کیا جاسکے۔ افسوس کی بات ہے کہ عموماًاہم مناصب پر فائز مسلم چہرے بھی آج اسلام کی ترجمانی سے محروم ہیں، اور مغربی افکار کے حامل و شیدائی ہیں۔یہی وجہ ہے کہ آج امت مسلمہ اقوام عالم میں اپنی نافعیت کا ثبوت پیش کرنے سے قاصر ہے اور چہار جانب سے دشمنوں کا لقمہ تر بنی ہوئی ہے۔ ظاہر بات ہے کہ اس میں ہماری کوتاہی کا دخل ہے، یہ تو اسلام کی خوبی ہے کہ اس کی فطرت میں بلندی مقدر ہے، ورنہ اگر امت مسلمہ آسمانی پیغام کی نسبت نہ رکھتی ہوتی تو نہ جانے کب کا وجود مٹ چکا ہوتا۔ مگر ہمیں محض اس نسبت پر مطمئن ہونے کی ضرورت نہیں ہے، بلکہ فکر کی ضرورت ہے کہ آخر پانی کہاں مر رہا ہے، ہم سے کون سی ایسی چوک ہورہی ہے کہ تمام تر کوششوں کے باوجود ہم اپنی نافعیت پیش کرنے سے قاصر ہیں۔
اس سلسلہ میں سب سے پہلی اور مؤثر فکر یہ ہے کہ ہم ایسا معاشرہ تشکیل دیں جس میں نسل نو فکری طور پر مسموم فضاؤں سے محفوظ ہو، اس کی سوچ بیدار ہو اور ذہن اسلامی ہو، اس کا عقیدہ سلامت ہو اور ایمان پختہ ہو، اس کی طبیعت میں دینداری ہو اور مزاج میں نرمی ہو، اسے اسلامی تعلیمات پر پورا انشراح ہو اور وہ اسلامی اخلاق کی حامل ہو، وہ زہریلے نصاب سے باخبر ہو اور تعمیری نصاب کی علم بردار ہو، وہ سوشل میڈیا کے مفید پہلوؤں سے واقف اور اس کی محرک ہو اور اس کے مضر پہلوؤں سے مجتنب ہو۔واقعہ یہ ہے کہ موجودہ دور میں اس کام کی بڑی اہمیت ہے، اگر ہم نے نسل نو کو مادیت کی ہوس میں بے مہار چھوڑ دیا تو تاریخ میں ہمارا نام ایک ظالم کی حیثیت سے شمار ہوگا، اور اگر ہم نے کچھ صبر سے کام لیا اور نسل نو کی نشو و نما میں کلیدی کردار نبھادیا تو امید ہے کہ آنے والی نسل دنیائے عالم میں اسلام کے پھریرے لہرنے کا نظارہ کرے گی۔
پیش نظر رسالہ سہ ماہی ’’تعمیر افکار‘‘ کی کوشش ہے کہ وہ قارئین تک ایسا مواد پہنچائے جو نسل نو کی نشو ونما میں مؤثر کردار ادا کرے، ہمیں امید ہے کہ اس رسالہ میں قارئین کو ان کی مطلوبہ چیزیں حاصل ہوں گی، اور وہ اس پر عمل بھی کریں گے،اور یہی رسالہ کا مشن ہے۔

اسلاف کا شوق مطالعہ ۔۔۔۔۔۔مگر وہ علم کے موتی کتابیں اپنے آباء کی !محمد قمر الزماں ندوی ۔۔۔۔۔۔

اسلاف کا شوق مطالعہ ۔۔۔۔۔۔ مگر وہ علم کے موتی کتابیں اپنے آباء کی ! محمد قمر الزماں ندوی ۔۔۔۔۔۔ مدرسہ نور الاسلام موئی کلاں کنڈہ پرتاپگڑھ 95...