Followers

Wednesday, January 8, 2020

اداریہ حدیث دل

حدیث دل 

محمد نظام الدین ندوی

علمی و فکری ذوق زندہ قوموں کی ایک اہم نشانی ہے، جس طرح انسانی جسم خون کے بغیر بے جان ہے، ٹھیک اسی طرح
 وہ قوم بھی چوب خشک کی مانند ہے جو علم سے محروم ہو، اور اس کے ذوق سے نا آشنا ہو، انسان کی فطرت میں اللہ تعالیٰ نے جمود نہیں رکھا،بلکہ اس کے مزاج میں بعض ایسے اوصاف ودیعت کیے ہیں، جن کی بنیاد پر وہ ہمیشہ اپنے سامنے تمام طاقتوں کو زیر کرلیتا ہے، اب اگر انسان اس علم سے دور ہو جس میں خدا تعالیٰ کی رہنمائی شامل ہے، تو پھر اس کے یہ اوصاف ساری انسانیت کے حق میں مضر ثابت ہوتے ہیں، اور اگر انسان علم حقیقی کے قریب ہو تو پھر وہ پوری کائنات کے لیے رحمت ثابت ہوتا ہے، امت مسلمہ کو اسی لیے علم حقیقی سے وابستگی کی پہلی وحی میں تلقین کی گئی اور علم سے اس کا رشتہ غیر معمولی مضبوط کیا گیا، تاکہ اس کی رحمت و نافعیت تاقیامت دنیا کی دیگر اقوام کے مقابلہ میں باقی رہے۔چنانچہ جب تک امت مسلمہ نے اس کا پاس رکھا، تب تک دنیا اس کے ذریعہ ہونے والی ترقیات کی شاہد رہی۔ اور دشمن کی یلغار ہر چہار سمت سے ناکام ہوئی، لیکن جب علمی پسماندگی کا مرض مسلمانوں میں سرایت کرگیا تو دنیا پر اس کا اثر پڑا، انسانی علوم حیوانیت کا درس دینے لگے اور ایک عمومی اضطرابی کیفیت دنیا کے منظرنامے پر عیاں ہونے لگی۔ان حالات میں دنیا کے مختلف خطوں میں اہل علم مسلمان طبقہ پر ضروری ہے کہ اس پسماندگی سے اوپر اٹھنے کے جو طریقے کتاب و سنت کی روشنی میں ممکن ہوسکیں، وہ اختیار کریں، اور اپنے اپنے علاقوں کی ضرورت کو محسوس کرتے ہوئے علمی و فکری ذوق پیدا کرنے کا ماحول بنائیں۔
الحمدللہ چک پہاڑ سمستی پور کے علاقہ کے لیے یہ بڑی خوش آئند بات ہے کہ اللہ تعالیٰ نے وہاں بھی کچھ افراد کو یہ توفیق بخشی کہ سرد ماحول میں فضا کو کچھ حرارت دے سکیں، اور اس کے لیے ’’الہدی اسلامی مکتب‘‘ کا نظام قائم کیا گیا، ایک لائبریری کا قیام بھی عمل میں آیاجس میںچار الماریوںسے زائدکتابیںجمع ہو گئیں ہیں اور علاقہ کی مختلف جگہوں پر بچوں کے معیار کے مطابق اسلامی کوئز کے مسابقہ جات کا نظم بھی کیا گیا، اور اس کے علاوہ بھی کام کی مختلف ایسی شکلیں اختیار کی گئیں، جن سے علمی و فکری ماحول پروان چڑھتا ہے۔
یہ شمارہ جو کہ نذرِ قارئین ہے، دراصل اسی سلسلہ کا امتداد ہے، ہمارا ارادہ ہے کہ اگر توفیق الٰہی شامل حال رہی تو ان شاء اللہ ہر تین مہینہ میں ایک علمی و فکری اور اصلاحی ترجمان بھی نکالیں گے، چونکہ ابھی مالی وسائل کی کمی ہے، اس لیے ’’الحکمۃ ضالۃ المؤمن‘‘ کے تحت ارادہ ہے کہ ابھی آن لائن برقی میگزین(پی ڈی ایف) کی شکل ہی میں شائع کریں۔ ربیع الاول کی مناسبت سے ’’الہدی‘‘ کا یہ پہلا شمارہ سیرت کے مضامین پر مشتمل ہے، ہماری کوشش ہوگی کہ آئندہ شماروں میں بھی آپ تک ایسا مواد فراہم کیا جائے جو آپ کے لیے دلچسپی کا سامان ہو اور ہمارے لیے بھی ذریعہ آخرت ثابت ہوسکے۔

Tuesday, January 7, 2020

ماں کے پیروں تلے جنت ہے


ما ں کے پیروں تلے جنت ہے

فطرت سلیمہ اور عقل سلیم کاتقاضا یہ ہے کہ انسان اپنے محسن کے ساتھ حسن سلوک کا برتائو کرتا ہے اوراس کا احسان مانتا ہے ،اس کے ساتھ خیر خواہی اور بھلائی کا معاملہ کرتاہے ،خواہ وہ معمولی احسان کیوں نہ ہو ؟اگر وہ کسی درس گاہ میں تعلیم حاصل کرتا ہے تو اسے ــ’’مادر علمی‘‘ کا سنہرا نام دے کر احسان شناسی کا حق ادا کرنے کی کوشش کرتا ہے، جس سرزمین میں اسکی پیدائش ہوتی ہے اور اپنے بچپن ایام گذارتا ہے اسے’’ مادر وطن‘‘ کا لقب دیا جاتاہے اور اس پر محبت و عقیدت سے سرشار ہو کر جان بھی نچھاور کرنے دریغ نہیں کرتا،جس دنیا میں اس نے آنکھیں کھولی ہیں اسے کبھی’’ مادر گیتی‘‘ کا عظیم الشان خطاب سے نوازا جاتا ہے۔ان سب مصنوعی اور مجازی مائوں کے حقوق تسلیم کئے جاتے ہیں،ان کی حفاظت کے لئے جان و مال اور قیمتی وقت خرچ کئے جاتے ہیں،ان سے اپنی نسبت پر فخر بھی کیا جاتا ہے،لیکن اصل اور حقیقی مائوں کی پر خلوص محبت و شفقت اورایثار و قربانی کو اکثر بھولا دیا جاتا ہے۔
اللہ تعالی نے انسان کو اس دنیا میں وجود عطا کرنے سے کے لئے والدین کو ذریعہ اور سبب بنایا ہے ،اس لئے اس نے سب سے پہلے ماں اور باپ کی مشترکہ حیثیت کو تفصیل سے بیان کیا ہے ،انکی عزت وخدمت ،اطاعت و فرماںبرداری کو اولاد پر ضروری قرار دیا ہے اور اپنے حق  کے بعد انسان کے باہمی حقوق پر والدین کے حقوق کو ترجیح دی ہے،ان کی خوشنودی میں اپنی رضامندی بتلایا ہے اور ان کی ناراضگی میں اپنی ناراضگی اور غیظ و غضب کا اظہار فرمایاہے ۔ماں اور باپ میں بھی سب سے بڑا درجہ ماں کو دیا ہے کیوں کہ صنف نازک فطری طور پر کمزور ہے ،وہ الفت و مودت ،ہمدردی و غمخواری، حسن سلوک کا مستحق ہے۔ لیکن اللہ تعالی نے ایک عورت کے اندر بے پناہ محبت و شفقت ،حمل،وضع حمل اور تربیت اولاد کی جانگسل تکالیف کو ہنسی خوشی برداشت کر نے کی وہبی قوت عطا فرمائی ہے، اسی لئے اللہ تعالی نے اس کے ساتھ نرمی،بھلائی،خیرخواہی کا خصوصی معاملہ کر نے کا حکم فرمایاہے۔’’اور ہم نے انسان کو اپنے ماں باپ کے ساتھ حسن سلوک کرنے کا حکم دیا ہے ،اسکی ماں نے اسے تکلیف جھیل کر پیٹ میںرکھا اور تکلیف برداشت کرکے جنا،اسکے حمل کا اور اسکے دودھ چھڑانے زمانہ تیس مہینے کا ہے‘‘۔(سورۃ الاحقاف آیت نمبر ۱۵)
  نبی کریمﷺ  کے ارشادات و فرمودات میں بھی اس کی تاکید ملتی ہے۔ایک شخص خدمت اقدس میںآکر دریافت کیا یا رسول اللہ ﷺ سب سے زیادہ میرے حسن سلوک کا مستحق کو ن ہے؟آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا تیری ماں، اس نے عرض کی پھر کون؟آپ ﷺ ارشاد فرمایا تیری ماں، پھر اس نے پوچھا کون؟ارشاد فرمایا تیری ماں، تین دفعہ آپ ﷺ نے یہی جواب دیا، چوتھی دفعہ پوچھنے پر آپ ﷺ نے ارشاد فرمایاتیرا باپ ۔ایک دن آپ ﷺ نے چار بڑے بڑے گناہوں کا ذکر کیا اور سر فہرست ماںکی نافرما نی کو قرار دیا اورفرمایا کہ تمہارے خدا نے مائوںکی نافرمانی تم پرحرام کی ہے۔ایک صحابی نے دریافت کیا یا رسول اللہ ﷺ!میں نے جہاد میں شرکت کا ارادہ کیا ہے اور آپ ﷺسے مشورہ چاہتا ہوں،آپ ﷺ نے فرمایاکیا تمہاری ماںہے؟انہوں نے کہا ہاں زندہ ہے،آپ ﷺنے فرمایا کہ تم ان کے ساتھ لگے رہو انکی خدمت کرتے رہوکیوں کہ جنت ان کے قدموں کے پاس ہے۔اسلام میں جہاد کی اہمیت مسلم ہے مگر والدین کی خدمت گذاری کا مقام و مرتبہ اس سے بھی بڑھ کر ہے کہ ان کی اجازت کے بغیر جہاد بھی جائز نہیںکہ جہاد کے میدان میں سر ہتھیلی پر رکھ کر جانا ہوتا ہے ،ہر وقت  جان جانے کا امکان رہتا ہے ،اس لئے والدین کی اجازت کے بغیر اسے اپنے جسم وجان کھونے کا حق نہیںبلکہ اپنے کو انکی خدمت گذاری میں وقف کردینا حقیقی سعادتمندی ہے۔ ماں کا مقام و مرتبہ بیان کرتے ہوئے علامہ سید سلیمان ندوی تحریر فرماتے ہیں۔’’مخلوقات ِانسانی میں جنس لطیف کی ہی صنف کو سب سے بڑی برتری حاصل ہیاور یہ برتری بالکل فطری ہے،انسان سب سے زیادہ اپنے وجود میں جنکا ممنون ہے اور جو اسکی تخلیق کی مادی علت ہیں وہ خالق اکبرکی علت فاعلہ کی ذات کے بعدماں اور باپ ہیں،لیکن باپ کی مادی علیت چند لمحوںاور چند قطروں سے زیادہ نہیں،مگر ماںوہ ہستی ہے جس نے اس کی ہستی کو اپنا خون پلاپلا کربڑھایا اور نو مہینے تک اسکی مشکل سہہ کر اور سختی اٹھا کر اپنے پیٹ میں رکھا پھر اسکے جننیکی ناقابل برداشت تکلیف کو ہنسی خوشی برداشت کیا پھر اس نو پیدا مضغہ گو شت کو اپنی چھاتیوں سے لگاکر اپنا خون پانی کر کے پلایااور اسکی پرورش اورپرداخت میںاپنی ہر راحت قربان اور اپنی ہر خوشی نثارکردی ایسی حالت میں کیا ماں سے بڑھ کر انسان اپنے وجود میں مخلوقات میں کسی اور کا محتاج ہے ؟اس لئے شریعت محمدی نے اپنی تعلیم میں جو بلند سے بلند مرتبہ اس کو عنایت کیا ہے وہ اس کی سزا وار ہے ۔(سیرۃالنبی)
اب ہم اپنا محاسبہ کریں کہ اگر ہمارے والدین زندہ ہیں تو کس قدر انکی خدمت گزاری

ماں کے پیروں تلے جنت ہے


کچھ ہاتھ نہیں آتا بے آہِ سحر گاہی


کوئی رفیق نہیں ہے کتاب سے بہتر

      
  کو ئی رفیق نہیں ہے کتاب سے بہتر

کتاب کی صحیح تعریف یہ ہے کہ اس کے مطا لعہ سے ہما را یہ 
احساس قو ی ہو کہ ہم نے ایک اچھے دوست کی معیت میں وقت گزارا ہے ،کتاب ایک بہترین اور وفا دار ساتھی ہے ،کتاب انسان کی غم خوار ومد دگار، انسانی ضمیر کو رو شنی بخشے والا قندیل، علم و آگہی کا بہترین زینہ ،ہوش و خر د کی رہنمائی  کے در خشاں مہتاب ، تنہا ئی کی جانگسل طوالت کی بہترین رفیق ہی نہیں بلکہ زندگی کی نا ہموار راہوں میں دلنواز ہمسفر بھی ہے اور اضطراب وبے چینی کی معالج بھی ۔
جب انسان گر دش زمانہ، حادثات و سا نحات ، زندگی کے تلخ واقعات اور ذاتی مشکلات کے ہجوم میں الجھ کر مایوس لمحات کے اندھیروں میں حیران و سرگرداں بھٹکتے ہو ئے زندگی کی پر لطف نعمت سے بہرہ مند نہیں ہو پاتا تو اس وقت بلند ہمتی شجاعت و بسا لت کے نیر تا باں بن کرکتابی حروف کی سر گوشیاں سفید صفحات کے کا لے پیلے نقوش اندھیروں میں روشنی لیکر نا امیدی میں امید کی کرن سے گم کر دہ منزل کو راہیں سجھاتی ہیں اور انسان قنوت و یا س کی تا ریکیوں سے نکل کر امید ور جا کی روشنی میں آجا تا ہے ،یہ ایسی روشنی ہو تی ہے کہ انسان اس میں اپنی شخصیت کو سمجھنے لگتا ہے، اپنی اچھائی دیکھنے اور برائی سے با خبر ہو نے لگتا ہے ۔
کتا بیںاپنے پڑھنے والوں کو عزت و رفعت ، دولت و ثروت ، شہرت و ناموری اور حکومت و اقتدار بھی عطا کر تی ہیں اور قو موں کے زوال و انحطاط کے اسباب بھی بتاتی ہیں۔ انسان کو مہذب و متمدن بنا کر پوری انسانی دنیا کو تہذیب و ثقافت کے عمدہ سانچے میں ڈھالنے کے تر غیبب بھی دیتی ہیں۔ اسے جینے کا شعور او ر قرینہ عطا کر تی ہیں ۔ لوگوںکی آپسی دوستی کا نتیجہ فساد اور بگاڑ ہو ا کر تا ہے ۔ مگر کتاب کی دوستی سے روح کی تازگی اور طبیعت کوسرور حا صل ہو تا ہے ۔ پروفیسر محسن عثمانی ندوی ’’کتابوں کے درمیاں ‘‘ میں تحریر فرماتے ہیں۔’’مطالعہ در اصل دوسروں کے تجربات سے استفادہ کا اور تاریخ کی برگزیدہ شخصیتوں سے ملاقات اور ان کی گفتگوسننے کا نام ہے۔سوانح عمریوںسے اور خاص طور سے خود نوشت سوانح سے اور سفر ناموں سے ایک قاری بہت کار آمد معلومات حاصل کر سکتا ہے،کتابوں کے مطالعہ سے انسا ن کو اپنی کوتاہوں کا اور کمزوریوں کا احساس ہو تا ہے،جسے وہ دور کرنے کی کوشش کرتا ہے،کتابوں کے مطالعہ سے انسان کے شعور میں پختگی پیدا ہوتی ہے،کتابوں کے مطالعہ سے انسان میں اچھے اور برے کی پرکھ اور تنقید کی صلاحیت پیدا ہو تی ہے،کتابوں کے مطالعہ سے انسان میں فنی تخلیق کی استعداد پیدا ہو سکتی ہے،کتابوں کے مطالعہ سے انسان حیات اور کائنات کے مسائل کو زیادہ بہتر طور پر سمجھ سکتا ہے، کتابوں کے مطالعہ سے ا نسان آفاق و انفس کی نشانیوںکو بہتر طور پر جان سکتا ہے،اس سے وہ اپنے علم میں اضافہ کرتا ہے اور علم کے اظہار کے مؤثر طریقے دریافت کرتا ہے اور حیوان ِناہق کے درجہ سے نکل کر حیوانِ ناطق کے مرتبہ تک پہنچتا ہے۔ ایک انسان جب کتاب خانہ میں داخل ہوتا ہے اور کتابوں سے بھری ہوئی الماریوں کے درمیان کھڑا ہوتا ہے تو در اصل وہ ایسے شہر علم میںکھڑا ہوتا ہے جہاںتاریخ کے ہر دور کے عقلاء اور علماء اور اہل علم اور اہل ادب کی روحیں موجود ہوتی ہیں،اس شہر میںاس کی ملاقات امام غزالی ،امام رازی         ،شکسپیر،برناڈشا،افلاطون، ارسطو ، ابن رشدسے لے کر دورِجدید کے تمام اہل علم اور اہل قلم سے ہو سکتی ہے۔کتاب خانہ بیٹھ کر شاہ ولی ا للہ دہلوی کی ’ ’ حجۃاللہ البالغۃ‘‘کا مطالعہ درا صل شاہ ولی ا للہ دہلوی سے براہ راست ملاقات اور استفادہ کا بدل ہے،کتاب وہ واسطہ ہے جس کے ذریعہ انسان ’’حاضرات‘‘ کے عمل کے بغیر اسلاف کی روحوںمل سکتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔مطالعہ کے لئے صحیح کتابوں کا انتخاب ضروری ہے،کتابیں سمندر کے مانند ہیں،ضرورت اور ذوق کے مطابق کتابوںکا انتخاب کرنا چاہئے،اس میںکسی صاحبِ علم اور صاحبِ ذوق کی رہنمائی بھی اشد ضروری ہے،دل کے بارے میںجگر مرادآبادی کا شعر ہے:
        کامل  رہبر   قاتل   رہزن      دل سا دوست  نہ دل  سادشمن   
جگر مراد آباد ی نے دل کے با رے میں جو بات کہی ہے وہ کتاب پر اس سے زیادہ صادق ہو تی ہے ،کتابیں انسان کو ساحل ہدایت تک پہنچاتی ہیں،کتابیں انسان کو گمراہی کے بھنورمیںڈبوتی بھی ہیں،کتابیں انسان کو گم کردہ راہ بھی بناتی ہیں،وہ کامل رہبر بھی ہیںاور قاتل رہزن بھی ہیں۔(کتابوں کے درمیاں ۔۶؍۷)
مو جو دہ دور میں راہ علم کے مسافرین بھٹکے ہوئے راہی ہو تے جا رہے ہیں۔ اس راہ کا زاد سفر کتابیں ہیں جو چھوڑدی گئی ہیں ، مطالعہ ہے جسے ترک کر دیا گیا ہے، جس کا اثر یہ ہے کہ رسوخ فی العلم جسے کہا جائے وہ بالکل نا پید ہو تا جا رہا ہے جبکہ اس زمانہ میں کتابوں کے جواہر پارے کو چن کر مو جو دہ تقاضوں کے مطابق پیش کر نا بہت ضرور ی ہے، اس ترقی پذیر دور میں ذرہ آفتاب ہو رہا ہے ، بے ا ہمیت چیز لائق قدر ہو رہی ہے لیکن ہماری کم کو شی کی وجہ سے علم کی پختگی جسے بہت آگے ہو نا چا ہئے وہی سب سے پیچھے ہے،اس لئے آج کی نئی ایجادات کے شر عی اور عقلی احکام کا بیان کرنا ہمارے لئے مشکل ہے ۔
بعض مطالعہ کے رسیا اپنی علمی پیاس انٹرنیٹ پر مو جود موادسے بجھانے کی کو شش کر تے ہیں اور کم سے کم وقت میں  اہم علمی کارنامے انجام دے رہے ہیں ، اس پر وہ قابل مبارک باد ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔انٹر نیٹ اور کمپیوٹر سے استفادہ کرنے والے اہل علم اپنے نادر اور انو کھے کاموں میں آج بھی مطبوعہ کتابوں کی مراجعت کو ضروری خیال کر تے ہیں کیونکہ نیٹ پر دستیاب کتابیں عام طورپر مستشرقین اور اسلام دشمن دماغ کے دست بر د سے محفوظ نہیں ہیں ، دوسرے یہ کہ علمی دنیا کے سر مایہ کا اکثر حصہ آج بھی انٹرنیٹ پر نہیں ہے ، ان حالات میں کتابوں کی اہمیت ، انکی حیثیت ، عظمت او ر افادیت مسلم ہے ، دنیا کی ایجادات، اس کے تقاضے ، کتابوں کی اہمیت و افادیت مسافران علم سے اپنے اندر چھپے خزانہ کے بارے میں پکار پکار کہ رہی ہے ۔
’’ فکر و معنی کے سمو ئے ہیں سمندر کتنے‘‘
اے کتاب ! ہم تیری عظمت کو سلام کر تے ہیں اور تیری رفاقت و دوستی اختیار کرنے کا عزم مصمم کر تے ہیں کیونکہ ۔
سرو رِ علم ہے کیفِ شراب  سے بہتر              کو ئی رفیق نہیں ہے کتاب سے بہتر
محمد نظام الدین ندوی      الھدی اردو لائبریری   چک پہاڑ  سمستی پور




Show quoted text


Al-Huda Urdu Library logo


الھدی اسلامی مکتب


الھدی اسلامی کوئز مسابقہ


کوئی رفیق نہیں ہے کتاب سے بہتر



Al-Huda Urdu Library Banner


اسلاف کا شوق مطالعہ ۔۔۔۔۔۔مگر وہ علم کے موتی کتابیں اپنے آباء کی !محمد قمر الزماں ندوی ۔۔۔۔۔۔

اسلاف کا شوق مطالعہ ۔۔۔۔۔۔ مگر وہ علم کے موتی کتابیں اپنے آباء کی ! محمد قمر الزماں ندوی ۔۔۔۔۔۔ مدرسہ نور الاسلام موئی کلاں کنڈہ پرتاپگڑھ 95...