مطالعہ کے چند بنیادی اصول
محمد طارق بدایونی ندوی
ضروری نہیں کہ پھل پھول، جعلی قصے کہانیاں، حکومتی پالیسیاں یا عشق ومعاشقی میں گزر اوقات کی جائے، واقعہ یہ ہے کہ گزر اوقات کے لیے سب سے موزوں اور قابل رشک طریقہ مطالعہ ہے، درج ذیل سطور میں راقم نے اپنے مطالعاتی تجربہ کی روشنی میں مطالعہ سے متعلق چند نکات سپرد تحریر کیے ہیں، ممکن ہے اہل علم میں کسی کو ان سے اختلاف ہو، اس لیے کہ یہ خالص طبعی ذوق کی بنیاد پر لکھے گئے چند پوائنٹس ہیں۔
قلم و قرطاس
د وران مطالعہ میں جو تعبیرات اور اہم چیزیں پسند آئیں وہ کاپی یا ایک ڈائری پر فوراً نوٹ کی جائیں۔
زبا ن
صرف آنکھوں سے کتاب پڑھنے پر اکتفا نہ کیا جائے، بلکہ زبان سے الفاظ بھی ادا کیے جائیں اور ہوسکے تو اپنے کانوں تک پڑھنے کی آواز بھی پہنچائی جائے
غرقابی
پڑھتے وقت آپ کی پوری توجہ صرف کتاب پر ہو اور اپنے ذہن کو حتی الامکان منتشر ہونے سے بچایا جائے۔
یکسوئی
مطالعہ کے لیے یہ بھی ضروری ہے کہ اس وقت بھوک اور نیند آپ کے پاس تک نہ بھٹکے، قاری کے لیے ضروری ہے کہ وہ ہمیشہ اپنی صحت کا جائزہ لیتا رہے۔ایک بات یہ بھی دھیان رہے کہ خالی پیٹ اور حالت نیند میں پڑھنا نیز گھریلو امور سے یکسوئی کے بغیر مطالعہ کرنا بالکل بے سود ہے۔
اعاد ہ
مطالعہ کے بعد کتاب بند کرکے اپنے ذہن کو یکسو کرے اور بطور خلاصہ جو پڑھا ہے اپنے ذہن میں اس کا اعادہ کرے۔
خلاصہ
مطالعہ کے قیمتی مواد کو ذہن نشین کرنے کا ایک عمدہ طریقہ یہ بھی ہے کہ جو پڑھا جائے اس کا خلاصہ مطالعہ کی ڈائری پر لکھ لیا جائے۔
مذاکرہ
خلاصہ نہ لکھنے کی صورت میں مطالعہ کے مواد کو ازبر کرنے کا ایک مؤثر ومفید طریقہ مذاکرہ بھی ہے، وہ اس طرح کہ ایسے دوستوں کے ساتھ جو آپ ہی کے مزاج ومذاق کے موافق ہوں، ہفتہ واری محفلیں سجائیں، جن میں ہر ایک اپنے اپنے مطالعہ کی روشنی میں اپنا سبق دہرائے۔
نگہ داشت
مطالعہ کے لیے ایک تجربہ کار نگراں کا ہونا بہت ضروری ہے، جس کے اشراف میں مطالعہ کیا جاسکے، کیونکہ ہم سمجھتے ہیں کہ بلا نگرانی مطالعہ کما حقہ کر پانا بڑا ہی مشکل ہے، بقول مولانا علی میاں ندوی: "مطالعہ دو دھاری تلوار ہے" جو بگاڑ بھی سکتا ہے اور سنوار بھی سکتا ہے۔
لحاظ
مطالعہ سے قبل اپنے ذوق و طبیعت کا لحاظ بھی ضروری ہے، لہٰذا آپ کی طبیعت کو جس موضوع سے مناسبت ہو، اس کو ملحوظ رکھ کر اپنے مشرف مطالعہ کی ایما کے مطابق کتاب کا انتخاب کریں۔
جگہ
کسی خاص جگہ کا انتخاب ضروری نہیں بلکہ جہاں آپ اپنے آپ کو یکسو جانیں وہاں کتاب نکل کر پڑھنے بیٹھ جائیں ظاہر ہے وہ جگہیں جق جق و شور و غوغے سے دور ہی ہوں گی جیسے پارک ، کھیت کھلیان ، خالی پڑا کھیل گراؤنڈ ، ندی وغیرہ کا کنارہ ، مسجد ، گھر کی منزل کا خالی پڑا کوئی کمرہ جہاں رہائش نہ ہو ، بعد نماز فجر و عصر کے بعد کسی عمارت کی چھت پر وغیرہ۔
انتخا ب
مبتدی طلبہ کے لیے بہترین ٹائٹل اور عمدہ ورق والی کتاب کا انتخاب زیادہ موزوں ہوگا، تاکہ پوری دل جمعی کے ساتھ مطالعہ کیا جاسکے. ابتدائی طالب علم میں ذوق وشوق کے اضافہ اور مطالعہ میں تقویت کے واسطہ یہ نکتہ بہت اہمیت کا حامل ہے۔
x
No comments:
Post a Comment