AL-HUDA URDU LIBRARY
الھدی اردو لائبریری چک پہاڑ سمستی پور
Followers
Monday, July 7, 2025
اسلاف کا شوق مطالعہ ۔۔۔۔۔۔مگر وہ علم کے موتی کتابیں اپنے آباء کی !محمد قمر الزماں ندوی ۔۔۔۔۔۔
Thursday, January 9, 2025
میرے والد کی لائیبریری
*میرے والد کی لائبریری*
تحریر : مہر افشاں بنت شمس الرحمٰن فاروقی
ترجمہ:نایاب حسن
میں کتابوں سے بھرے گھر میں پلی بڑھی،جہاں ہر کمرے میں کتابیں ہی کتابیں تھیں، کتابیں ہی ہماری شناخت اور تعارف کا وسیلہ تھیں، میری والدہ ماہر تعلیم تھیں اور والد سول سروینٹ اور ایک ابھرتے ہوئے ادیب و ناقد تھے۔ وہ اپنی مصروف زندگی سے جتنا وقت نکال پاتے، اسے پڑھنے لکھنے میں صرف کرتے؛البتہ ان کے مطالعے یا ادبی مصروفیات کے لیے کوئی مخصوص جگہ نہیں تھی؛ کیونکہ ہمارا گھر اتنا بڑا نہیں تھا۔
ایک چھوٹی بچی کے طور پر میری سب سے پیاری یادیں والد کے ساتھ کتابوں کی بڑی سی دکان’ یونیورسل بک کمپنی‘ جانے اور وہاں بچوں کے حصے میں گھنٹوں گزارنے کی ہیں، اس دوران والد ادبی تخلیقات سے معمور بک شیلف کھنگالتے رہتے اور بالآخر وہ وہاں سے کتابوں کا ایک بنڈل خریدتے اور ہمیشہ میرے لیے بھی کچھ کتابیں لیتے۔
1964 میں ’شب خون‘ کے اجرا کے بعد ہمارے گھر میں اردو جرائد کثیر تعداد میں آنے لگے۔ان میں کچھ ادبی مجلات تھے جیسے ’نقوش‘، ’فنون‘، ’سیپ‘، ’شاعر‘، ’تحریک‘،’ کتاب‘ اورکچھ ’ بیسویں صدی ‘اور’ شمع‘ جیسے رسائل تھے۔ ان میں سے بہت سے لاہور اور کراچی سے آتے تھے؛ لیکن زیادہ تعداد ممبئی، پٹنہ، لکھنؤ اور حیدرآباد سے آنے والے رسائل کی تھی۔ میں اردو جریدے ’کھلونا‘ کی آمد کا بطور خاص انتظار کیاکرتی، جسے میں لطف لے کر پڑھتی تھی۔
جب والد کا ٹرانسفر الہ آباد سے لکھنؤ ہوا، تو ان کے سامان میں زیادہ تر کتابیں ہی تھیں (وہ کالی داس مارگ پر ایک فرنشڈ سرکاری گیسٹ ہاؤس میں مقیم تھے)۔ آخر میں وہ ریور بینک کالونی کے ایک مکان میں منتقل ہوگئے تھے اور وہاں ان کی کتابوں میں ڈرامائی طور پر اضافہ ہونے لگا۔
لکھنؤ میں کتابوں کی دکانیں الہ آباد سے کہیں زیادہ تھیں، پرانے شہر میں اردو کتابوں کی دکانیں تھیں، مجھے یاد ہے کہ اردومکتبوں میں ایک قسم کی سنجیدگی ہوا کرتی تھی، میرے جیسے نوعمروں کے لیے وہاں کا ماحول دلچسپ نہیں تھا۔ اردو کے نوعمر قارئین کے لیے شاید ہی وہاں کتابیں ہوں گی۔ (والد نے مجھے وہیں سے پریم چند کی مختصر کہانیوں کا مجموعہ’ پریم پچیسی‘ خریدکر دیا تھا)۔
لکھنؤ میں مستعمل کتابوں کی بھی بہت سی دکانیں اور کتابیں مستعار دینے والی لائبریریاں بھی تھیں۔ حضرت گنج، لکھنؤ کے کی ایلیٹ مارکیٹ میں، ایک پسندیدہ مقام ’ہابی کارنر‘ تھا، وہاں’کوچۂ محبت ‘ نامی دلچسپ گلی کے عین بیچ میں مستعمل کتابوں کی ایک دکان تھی۔ ’کوچۂ محبت‘ ایک تنگ سی گلی تھی، یہ ایک مسقف بازار ، گڑبڑ جھالا کا ایک اعلیٰ ورژن تھا، جو خریداروں سے بھرا ہوتا تھا،وہاں کی فضا بازار میں بکنے والی عطریات سے معطر رہتی تھی۔
کندن جیولری چمکتے ہوئے شیشے کے کیسوں میں نظر آتی، چکن کری کے کرتے ہینگروں میں لٹکتے رہتے اور ایک غیر متوقع مقام پر ملبوسات کے سامانِ آرایش کی دکان کے علاوہ ایک لکڑی کی سیڑھی بھی ٹکی ہوتی ۔ ایک شخص کمزور سے جنگلے پر لٹکی اس سیڑھی پر چڑھتا اور کتابوں کے عجائبستان میں پہنچ جاتا۔ وہاں سے آپ اپنی پسند کے مطابق کتابیں دیکھ سکتے، خرید اور ادھار لے سکتے تھے۔
ہر اتوار کو پرانے شہر کے نخاس میں مستعمل کتابوں کا بازار لگتا تھا، ہم وہاں جاتے،وہاں کتابیں پرانی چادروں، کبھی جوٹ کے تھیلوں اور ترپالوں پر رکھی ہوتی تھیں۔ اگر کسی کو بہت سی کتابیں خریدنی ہوتیں ،تو انھیں دیکھنے، منتخب کرنے اور مول بھاؤ کے لیے وہیں کسی کتاب فروش کے بیٹھنے کی جگہ پر ٹکنا پڑتا تھا۔ کبھی کبھار کسی کو کوئی قیمتی چیز مل جاتی، جیسے کسی کتاب کا پہلا ایڈیشن یا کوئی پرانی کتاب جو اب نہیں چھپتی ۔
ریور بینک کالونی والے گھر میں کتابیں بڑے بڑے ڈھیرکی شکل میں جمع ہونے لگیں؛ کیونکہ کتابوں کے لیے مناسب تعداد میں الماریاں نہیں تھیں۔ یہ کراے کا مکان، جیسا کہ مجھے یاد پڑتا ہے، پوری طرح تیار بھی نہیں تھا۔ اس بار جب والد کا تبادلہ ہوا، تو کتابیں پیک کرنے میں ہفتوں لگ گئے۔
دیو نگر ، دہلی والا گھر کافی بڑا تھا۔ میری والدہ نے پنچکوئیاں روڈ سے دیگر فرنیچر کے ساتھ کتابوں کی الماریاں بھی خریدیں،مگریہ الماریاں بہت جلد کتابوں کے لیے کم پڑنے لگیں۔ والد کا ذخیرۂ کتب وسیع و عریض تھا ،ان میں ادبی تنقید، شعری اور افسانوی مجموعے (اردو اور انگریزی)، ناول، جاسوسی کہانیاں، کلاسیکی ادبی سیریز، انسائیکلوپیڈیا، نادر ونایاب لغات ہر قسم کی کتابیں تھیں۔
انھیں جاسوسی(اور کچھ عرصے تک دہشت ناک) کہانیاں پڑھنا پسند تھا ۔ دوسرے سنجیدہ شائقینِ کتب کی طرح انھوں نے بھی ہر قسم کی کتابیں جمع کیں۔ پھر فاضل کتابیں الہ آباد والے گھر بھیجی جانے لگیں اور وہاں کی الماریاں بھی ان کتابوں سے بھر گئیں۔
یہ سلسلہ چلتا رہا، یہاں تک کہ والد صاحب کے سرکاری ملازمت سے ریٹائرمنٹ کا وقت آگیا۔اس کے بعد وہ سب سے پہلا کام یہ کرنا چاہتے تھے کہ ان کی ذاتی لائبریری ہو؛چنانچہ الہ آبادوالے گھر کی پہلی منزل پراس کی تعمیر شروع ہوئی،ان کامنصوبہ یہ تھا کہ یہ لائبریری دو کمروں اور ایک ہال پر مشتمل ہوگی۔ پہلا کمرہ دارالمطالعہ ہوگا، دوسرا مہمانوں کے لیے ہوگا اور ہال میں صف بستہ کتابوں کے ریک ہوں گے۔
کتابوں کو اوپر پہنچانا ایک مشقت بھرا کام تھا؛ لیکن یہ بھی ہو گیا۔ دفتر کو منظم انداز میں تیار کیا گیا اور الہ آباد کی شدید گرمیوں سے نمٹنے کے لیے اے سی لگایا گیا۔ لائبریری کے باب الداخلہ پر خوب صورت اردو میں لکھا ہوا والدصاحب کا نیم پلیٹ چسپاں کیا گیا۔
گفتگو کے اصل نقطے پر پہنچنے کے لیے میں یہاں کچھ تفصیلات سے گریز کرتی ہوں۔ والد اگرچہ اس وقت 58 سال کے تھے، مگر دل کی بیماری میں مبتلا تھے، وہ دن میں کئی بار سیڑھیاں چڑھنے سے تھک جاتے، اے سی کے باوجود گرمیوں میں کمرہ کافی گرم ہو جاتا ، ہال ناقابل برداشت حد تک گرم ہوجاتا، گوکہ پنکھا چلتا رہتا۔ گرمیوں میں دھول دھکڑ کے ساتھ چلنے والی ’لو‘ کھڑکیوں سے زور آزمائی کرتی اور ہر چیز پر دھول کی تہیں جم جاتیں،غسل خانے میں پانی کا مسئلہ بھی تھا۔
بالآخر والدہ جو والد کی صحت کے تئیں فکرمند رہا کرتی تھیں،انھوں نے اصرار کیا کہ وہ نیچےآ جائیں اور ڈرائنگ روم(جو ڈائننگ ہال بھی تھا) کو اپنی لائبریری بنالیں۔ ایک بار پھر کتابوں کو منتقل کیا گیا ،البتہ اس اقدام سے والد صاحب کو ایک موقع ملا کہ وہ کتابوں کے بہت بڑے ذخیرے میں سے کچھ منتخب کرلیں؛چنانچہ فکشن، جاسوسی ناول اور دیگر کم ادبی اہمیت کی چیزیں اوپر والے ہال میں رہنے دی گئیں۔ کتب خانوں اور اُن افراد کو اچھی خاصی تعداد میں کتابیں عطیہ کی گئیں، جو ان کے خواہش مند تھے اور انھیں پاکر خوش ہوئے۔
والد کی میز سابقہ ڈرائنگ روم میں لگادی گئی ، مضامین کے مطابق احتیاط سے کتابیں مرتب کی گئیں، ایسے منصوبوں کی تکمیل کے لیے معاونین کا انتظام ہمیشہ والدہ نے کیا۔ والد بہت جلد کمپیوٹر استعمال کرنے لگے تھے، ان کے ڈیسک ٹاپ کمپیوٹر کے ساتھ ایک علیحدہ ڈیسک نصب تھا۔ اب ان کے پاس ایک ایسی جگہ تھی ،جہاں وہ اپنی محبوب کتابوں سے گھرے رہتے اور یہ ان کے لیے موزوں تھی، ایک بڑی دیواری الماری میں لغات کا ڈھیر لگا ہوا تھا، کم از کم 50 کتابیں تو ہوں گی، کچھ بہت پرانی اور نایاب اردو و فارسی زبانوں کی لغات بھی تھیں۔ ایک اور بڑا حصہ غالب کے لیے وقف تھا، ایک اقبال کے لیے،ایک بڑا شیلف میر کے لیے اور اسی طرح دیگر بڑے شعرا و ادبا سے مخصوص گوشے تھے۔ادبی تنقید کی کتابیں ایک پوری دیوار پر قابض تھیں۔
والد نے خالی دیوار پر اپنے پسندیدہ آرٹس، تصاویر اور خطاطی کے نمونے فنکارانہ انداز میں چسپاں کر رکھے تھے، ان کی میز پر مختلف اسفار سے لائے ہوئے انتہائی دلچسپ نوادرات رکھے ہوتے، ان کی میز پر ان کے بچپن کی ایک تصویر بھی ہوتی(اب بھی ہے)، جب وہ بمشکل پانچ سال کے ہوں گے، جس میں وہ اپنے والد کے قریب، دو دگر بہن بھائیوں کے ساتھ کھڑے ہیں۔ لائبریری کا ماحول علمی؛ لیکن دوستانہ ہوتا۔
یہ لائبریری گھومنے پھرنے کی پسندیدہ جگہ بن گئی، والد صاحب وہیں مہمانوں کا استقبال کرتے۔ دارجلنگ کی چائے ایک خوبصورت ٹی پاٹ میں تیار کی جاتی اور مساوی سائز کے کپوں میں دن بھر یہاں آنے والوں کو متعدد بار پیش کی جاتی۔ خاص خاص موضوعات پر گفتگو اور انٹرویوز یہیں ہوا کرتے ۔
چونکہ والد صاحب ریٹائرمنٹ کے بعد الہ آباد میں دوبارہ مقیم ہوگئے تھے ؛اس لیے گھر اورخصوصاً لائبریری ادبی گفتگو کا مرکز بن گئی تھی۔ ایک بار پھریہاں کتابوں کا ذخیرہ بڑھنے لگا۔ فرش سے چھت تک کتابوں کے ریک تیار کروائے گئے ،اس طرح لائبریری نے بالکل نئی شکل اختیار کرلی۔ یہیں بیٹھ کر والد نے اپنا مشہور ناول ’کئی چاند تھے سرِ آسماں‘ لکھا۔
2007 میں میری والدہ کا انتقال اس لائبریری کی تاریخ کا ایک اہم سانحہ تھا۔میری والدہ ،والد کی تمام ترمساعی کی سب سے بڑی مداح اور معاون تھیں۔ حادثاتی طور پر گرنے اور اس کے نتیجے میں سرجری کے بعد کی پیچیدگیوں کی وجہ سے غیرمتوقع طورپر ان کا انتقال ہم سب کے لیے دل دوز سانحہ تھا۔ ایک بیٹی کے لیے اس نقصان کے اثرات کا تصور بھی مشکل ہے ، میرے والدین کالگ بھگ 50 سال کا ساتھ تھا ، دونوں مکمل ہم آہنگی کےساتھ بوڑھے ہو رہے تھے۔
ماں بلا کسی رکاوٹ کے گھر چلاتی تھیں، انھوں نے والد کو اپنی ادبی مصروفیات کے لیے لامحدود اسپیس دیا، ’شب خون‘ کے آغاز کے دوران جدوجہد کے سالوں میں ان کی معاونت کی ، انھوں نے ایک کامیاب کیریئر کے ساتھ الہ آباد میں اپنے گھر کے نظم و نسق کو سنبھالا، والد کے ساتھ مل کر وہاں لائبریری بنائی۔
والد کا کتب خانہ ان کے تخلیقی سفر کا سب سے بڑا نمونہ ہے۔ دور دراز کے شہر شارلوٹز وِل (ورجینیا)میں بیٹھ کر اس کے بارے میں سوچتے اور لکھتے ہوئے میرے ذہن میں اس کمرے کی شروع سے آخر تک کی بہت سی تصویریں ابھر رہی ہیں ۔ سب سے قدیم ڈرائنگ روم(جو ڈائننگ روم بھی تھا)کی ہے، جس میں بریلی کا ’صوفہ سیٹ‘ اور تین سیٹوں والا بنچ تھا، جسے ماں نے اپنی مرضی کے مطابق تیار کروایا تھا۔ ایک معمولی سا کشمیری اخروٹ کی لکڑی کا سینٹر ٹیبل اور ایک سرے پر کشمیری نیسٹنگ ٹیبل، وہاں کوئی قالین نہیں تھا؛ کیونکہ والد نے فرش کو ایک کلاسک بلیک اینڈ وائٹ پیٹرن پر ڈیزائن کیا تھا۔
کمرہ ہمیشہ سردیوں میں ٹھنڈا اور گرمیوں میں بہت گرم محسوس ہوتا تھا۔ کھانے کی میز پرانے طرز کی پتری دار تھی، جس کے گرد چھ مضبوط کرسیاں رکھی ہوتیں۔ یہ اکثر میرے لیے ایک متبادل مطالعے کی میز کے طور پر کام کرتی۔ ہم ڈرائنگ روم صرف رسمی مہمانوں کے لیے استعمال کرتے، عموماً آرام دہ کرسیوں والے دو کشادہ برآمدوں پر ہی مہمانوں کا خیرمقدم کیا جاتا ۔
لائبریری ملحقہ برآمدے تک پھیل گئی تھی۔ والد کے سب سے حیرت انگیز کتابی ذخیرے’ داستانِ امیر حمزہ‘ کی 45 جلدوں کا مکمل سیٹ ایک سٹیل کی الماری میں رکھا گیا ۔ والد کی ذاتی ادبی تخلیقات و تصانیف اتنی زیادہ تھیں کہ انھیں خود اپنی کتابوں کے لیے ایک مکمل الماری کی ضرورت تھی۔’ شب خون‘ کے شماروں کا ذخیرہ بھی یہیں رکھا گیا، جریدے کے چالیس سالہ شمارے مجلد بندھے ہوئے ہیں اور ہارڈ کاپی میں محفوظ ہیں۔
مختلف شہروں لکھنؤ، دہلی، پٹنہ وغیرہ میں والد کی پوسٹنگ کے دوران یہ کمرہ کبھی کبھی کھانے کے لیے بھی استعمال ہوتا تھا۔عموماً میری چھوٹی بہن اور میں والدہ کے ساتھ ان کے کمرے میں کھانا کھایا کرتے ۔ جب کھانے کی میز کو لائبریری کے لیے جگہ بنانے کے لیے برآمدے میں منتقل کیا گیا، تب سے اسے کھانے کے لیے استعمال کیا جانے لگا۔
کمپیوٹر ڈیسک ان دنوں کوئی خریدی جانے والی چیز نہیں تھی، ایک پرانی میز اس کے لیے کافی سمجھی جاتی تھی۔ مجھے کمپیوٹر اسکرین کے قریب رکھا کی بورڈ اب بھی یاد ہے،بھاری بھرکم سی پی یو فرش پر رکھا گیا تھا، پرنٹر کے لیے جگہ نہیں تھی؛ اس لیے اس کے لیے الگ سے انتظام کیا گیا اور اسے ایک چائے کی میز پر رکھا گیا۔ کچھ سالوں بعد ایک سکینر خریدا گیا اور قریبی میز پر رکھا گیا۔ان کی تاریں اکثر الجھ جاتی تھیں؛ کیونکہ انٹرنیٹ راؤٹر بھی ڈیسک پر ہی تھا۔
لائبریری کے داخلی دروازے کے ساتھ ہی ایک صوفہ تھا۔ پہلے تو زائرین صوفے پر بیٹھتے ہوں گے؛ لیکن آہستہ آہستہ یہ بھی کتابوں سے بھر گیا تھا۔ یہ وہ کتابیں تھیں جو تقریباً روزانہ بڑی تعداد میں مختلف مصنفین ، شاعروں ،مضمون نگاروں اور فکشن نویسوں کی جانب سے پہنچتی تھیں،ان میں شعری مجموعوں کی تعداد زیادہ ہوتی تھی۔
جریدۂ ’شب خون‘ کے کے بند ہونے کے بعد اس کی جگہ ’خبرنامہ‘ نے لے لی۔ ’خبرنامہ‘ اپنے نام کے مطابق مشمولات کے ساتھ زندہ رہا، یہ نئی کتابوں کی رپورٹس، تبصروں اور خطوط وغیرہ پر مشتمل ہوتا تھا۔ والد ایک عظیم مکتوب نگار بھی تھے، انھوں نے اپنے زمانے کے ادباکو اپنے ہاتھ سے ہزاروں خطوط لکھے ہوں گے۔ کچھ خطوط شائع بھی ہو چکے ہیں؛ لیکن ان کے مکاتیب کا ایک بڑا ذخیرہ غیر مطبوعہ ہے ،جنھیں ترتیب دینے کی ضرورت ہے۔
’خبرنامہ‘ بھی اکیلے نہیں نکالا جا سکتا تھا؛اس لیے ایک سیکرٹری کی ضرورت تھی۔ اب خالی جگہ میں ایک تیسرا ڈیسک رکھا گیا ۔ یہ اس لیے ممکن ہوا کہ کتابوں کی شیلفیں فرش سے چھت تک دیواروں سے لگی ایستادہ تھیں، بھاری بھرکم ریک ہٹا دیے گئے۔ گزرتے وقت کے ساتھ ساتھ اس بڑے سے کمرے میں اور بھی چیزیں ایڈجسٹ ہوتی رہیں ۔ کمرے کا بوسیدہ سیاہ و سفید فرش لینولیم سے ڈھکا ہوا تھا اور جب وہ کھردری ہو گئی، تو مخصوص قسم کے قالینوں سے کمرہ روشن ہوگیا۔
اپنے آخری سالوں میں، والد کو اس بڑے مسئلے کا سامنا تھا کہ ان کی پیاری لائبریری کا کیا کرنا ہے؟ کتابیں کسی آرکائیو لائبریری کو عطیہ کردی جائیں یا انھیں اِسی جگہ اسکالرز کے مصدر و مرجع کے طور پر محفوظ رکھا جائے؟ ان کا خواب یہ تھا کہ کتابوں کا یہ ذخیرہ کسی ایک جگہ پر رکھا جائے اور ممکنہ طور پر اسے ایک دارالمطالعہ میں تبدیل کردیا جائے، جو محققین کے لیے کھلا رہے۔ ہم( ان کی بیٹیوں) نے انھیں یقین دلایا کہ ہم اس لائبریری کی دیکھ بھال کریں گےاور اسے ایک ریسورس لائبریری بنانے کے ان کے خواب کو پورا کرنے کی کوشش کریں گے۔
میری بہن باراں نے کتابوں کی فہرست سازی کے لیے پچھلے دنوں ریٹائر ہونے والے ایک پروفیشنل لائبریرین کی خدمات حاصل کرکے اس پروجیکٹ کا سنجیدگی سے آغاز کیا ۔ کئی وجوہات(جنھیں یہاں بیان کرنے کی ضرورت نہیں) کی بنا پر یہ کام آسان نہیں تھا؛ لیکن بہرحال یہ منصوبہ اب تکمیل کے قریب ہے۔ اگلا قدم اس لائبریری کو اس طرح زندہ و شاداب رکھنا ہو گا کہ وہ شمس الرحمن فاروقی کے ادبی وژن سے منور گفتگووں اور لیکچرز کی بھی جگہ ہو۔
Thursday, July 13, 2023
مطالعے کی عادت کیسے ڈالیں؟ چودہ معاون طریقے تحریر:Leo Babautaترجمہ: نایاب حسن
Wednesday, March 8, 2023
مسلمان انسانیت کے لئےنفع بخش بنیں محمد امام الدین ندوی مدرسہ حفظ القرآن منجیا ویشالی
Saturday, September 10, 2022
کامیاب استاذ بننے کےلیے بیس رہنما اصول – مولانا یوسف خان
Sunday, August 7, 2022
بند آنکھ سے دیکھ تماشا دنیا کا
Tuesday, April 12, 2022
میں رمضان ہوں میرا احترام کرو
Monday, August 3, 2020
مطالعہ کے چند بنیادی اصول :- محمد طارق بدایونی ندوی
مطالعہ کے چند بنیادی اصول
محمد طارق بدایونی ندوی
قلم و قرطاس
زبا ن
غرقابی
یکسوئی
اعاد ہ
خلاصہ
مذاکرہ
نگہ داشت
لحاظ
جگہ
انتخا ب
Saturday, April 4, 2020
ماہ شعبان کی فضیلت اور مسلم معاشرہ
ماہ شعبان کی فضیلت اور مسلم معاشرہ
ماہ شعبان بڑی فضیلتوں اور بر کتوں کا مہینہ ہے اس مہینہ کا چاند نکلتے ہی رمضان المبارک کا احساس قلب مومن میں بیدار ہو جاتا ہے اس کی فضیلت و برکت سے قلب مومن کو تاز گی محسوس ہوتی ہے اوراس طرح وہ رمضان المبارک کی تیاری میں مصروف ہو جاتا ہے ۔ اس مہینہ کی فضیلت احادیث مبارکہ سے ثابت ہے ۔حضر ت عائشہ ؓ فر ماتی ہیں کہ میں نے رمضان کے علاوہ رسو ل اللہ ﷺ کو کبھی پورے مہینے کے روزے رکھتے نہیں دیکھا سوائے شعبان کے کہ اس کے تقریباً پورے دنوں میں آپ روزہ رکھتے تھے۔ (بخاری ) حضرت اسامہ بن زید ؓ فر ماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سوال کیا کہ میں نے آپ ﷺ کو شعبان سے زیادہ کسی اور مہینہ میں نفلی روزہ رکھتے نہیں دیکھا ۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ یہ رجب اور رمضان کے درمیان ایک مہینہ ہے جس کی بر کت سے لوگ غافل ہیں اس ماہ میں اللہ تعالی کے سامنے اعمال پیش کیے جاتے ہیں میری خواہش ہے کہ میرے اعمال اس حال میں پیش ہو ں کہ میں رو زہ سے رہوں ۔ ( نسائی )
اس مہینہ کی پندرہویں رات کو شب برات کہتے ہیں جس کہ معنی نجات پانے کی رات ہیں ۔ کیونکہ اس رات کو بے شمار گنہگاروں کو معاف کیا جاتا ہے اس لئے اس رات کو شب برات کہتے ہیں، اس رات کی فضیلت کے متعلق تقریباً ۱۷ صحابہ اکرام ؓ سے احادیث مروی ہیں جن میں سے بعض صحیح ہیں۔ حضرت معاذ بن جبل ؓ ر وایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ فرمایااللہ تعالی پندرہویں شب میں تمام مخلوق کی طرف تجلی فرماتا ہے، مشرک اور بغض رکھنے والوں کے سوا ساری مخلوق کی مغفرت فرماتا ہے ( طبرانی)حضرت عثمان بن ابی العاص سے روایت ہے کہ رسو ل اللہ ﷺ نے فرمایا پندرہویں شب میں اللہ تعالی کی طرف آواز لگائی جاتی ہے کہ کوئی مغفرت مانگنے والا ہے کہ اس کہ گناہوں کو معاف کروں ، ہے کوئی سوال کرنے والا کہ میں عطا کروں ۔ ہر سوال کرنے والے کو میں عطا کرتا ہوں ، سوائے مشرک اور زنا کرنے والے کے ( بیہقی) حضرت عائشہ ؓ روایت کر تی ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا بیشک اللہ تعالی پندرہویں شعبان کی شب کو نچلے آسمان پر نزول فرماتا ہے اور قبیلہ کلب کی بکریوں کے بالوں کی تعداد میں لوگو ں کی مغفرت فرماتا ہے اس رات میں بے شمار لوگوں کی مغفرت کی جاتی ہے مگر مشرک ، عداوت کرنے والے، رشتہ تو ڑنے والے ، تکبرانہ طور پر ٹخنوں سے نیچے کپڑا پہننے والے ، والدین کی نا فرمانی کر نے والے اور شراب پینے والے کی طرف اللہ تعالی کی نظر کرم نہیں ہو تی۔ ( ترمذی) ان احادیث کی روشنی میں شب برات میں درج ذیل اعمال صالحہ کا انفرادی طور پر خاص اہتمام کر نا چاہیے۔
۱۔ عشاء اور فجر کی نمازیں وقت پر ادا کرنا ۔۲۔ نفل نماز یں خاص کر نماز تہجد ادا کرنا ۔ ۳۔ صلوۃ التسبیح پڑھنا ۔ ۴۔ قرآن کی تلاوت کرنا ۔۵۔اللہ کا ذکر کرنا۔ ۶۔ دعائے مغفرت کا اہتمام کر نا ۔ ۷۔ اللہ سے خوب توبہ کر نا ۔ ۸۔ کسی کسی شب برات میں قبرستان جانا اور دعائے مغفرت کرنا۔ لیکن ہر شب برات میں قبرستان جانے کا خاص اہتمام کرنا کوئی ضروری نہیں کیونکہ حضور ﷺ سے صرف ایک مرتبہ اس رات میں قبرستان جا نا ثابت ہے ۔ ۹۔ اس رات میں انفرادی عبادت کرنا چاہیے لہذا حتی الامکان اجتماعی عبادتوں سے اپنے آپ کو دور رکھنا چاہیے۔ کیونکہ نبی ﷺ سے اس رات میں اجتماعی طور پر کوئی عبادت ثابت نہیں ہے ۔
اسلام ایک مکمل نظام حیات ہے اسی سے انسان کو مکمل رہنمائی ملتی ہے ،شریعت میں جاہلی رسومات ، بدعات و خرافات کی کوئی گنجائش نہیں ،انسان اسلامی تعلیمات کی مکمل پیروی کرکے دنیوی اور اخروی کامیابی حاصل کر سکتا ہے لیکن جاہلی رسومات و بدعات کو اپنا کر کبھی فلاح نہیں پا سکتا ہے ۔اسلام خدا کا پسندیدہ مذہب ہے یہ تمام بدعات و خرافات اور غیر اسلامی رسو مات کی تردید کر تا ہے ۔ اور اللہ تعالی اور اس کے رسول کی مکمل پیروی کی دعوت دیتا ہے ۔ لہذااس با برکت مہینہ میں چند غیر ا سلامی رسومات سے اجتناب ضروری ہے تاکہ یہ رات زحمت کے بجائے ہمارے لئے رحمت ثا بت ہو ۔ اور اللہ کی خوشنودی کے بجائے ناراضگی سبب نہ ہو ، لہذا مندرجہ ذیل اعمال احادیث سے ثابت نہیں ۔۱۔ حلوا پکانا ۔ ۲۔ آتش بازی کرنا ۔۳۔ قبرستان میں عورتوں کا جانا۔ ۴۔ اجتماعی طور پر قبرستان جانا ۔۵۔قبرستان میں چراغاں کرنا ۔ ۶۔ مختلف قسم کے ڈیکوریشن کا اہتمام کرنا۔ ۷ ۔ عورتوں اورمردوں کا اختلاط کر نا ۔ ۸۔ قبروں پر چادر چڑھانا ۔اللہ تعالی ہمیں صراط مستقیم پر چلنے کی توفیق عنایت فرمائے اور اس مہینہ اور شب برات کی قدر کرنے اور عبادت و تلاوت اور توبہ و استغفار کی توفیق مر حمت فرمائے اور غیر اسلامی رسومات و بد عات و خرافات سے ہماری مکمل حفا ظت فر مائے۔
اداریہ تعمیر افکار
محبت مجھے ان جوانوں سے ہےستاروں پہ جو ڈالتے ہیں کمند
دنیوی نظام میں خام مال کا سقم اور عمدہ چیز کا حسن ہر ایک پر آشکارا ہے، خدا کا تکوینی نظام ہے کہ ہمیشہ نفع بخش چیز باقی رہتی ہے، اور بے حیثیت چیز کنارہ جا لگتی ہے، اللہ کا یہ قانون جامد اور غیر جامد تمام اشیاء میں یکساں ہے، معمولی قیمت کا قلم اگر روشنائی سے بھرا ہو تو انسان دل کے پاس رکھتا ہے، اور اگر روشنائی ختم ہوجائے تو کوڑے دان میں بھی جگہ باقی نہیں رہتی۔ زمین پر پڑی بے حیثیت لکڑی ہر کسی کے قدم سے روندی جاتی ہے، لیکن جب انسان کے کان میں خارش ہو اور کوئی چیز نہ ملے تو اس وقت وہ حقیر لکڑی ہزاروں روپیے سے قیمتی بن جاتی ہے۔ ٹھیک اسی طرح دنیا کی جو قومیں انسانیت کے لیے نفع بخش ہوتی ہیں، وہ تیزوتند باد مخالف اور بھیانک طوفان کے بھنور کا کبھی شکار نہیں ہوتیں، بلکہ وہ ہمیشہ منصہ شہود پر باقی رہتی ہیں اور یکساں طور پر پوری انسانیت ان کی نافعیت تسلیم کرتی ہے۔ اورجو قومیں حقیر نظریات کی حامل یا فاسد مادہ سے تشکیل پاتی ہیں، ان کا وجود ہی چند سالوں میں کالعدم ہوجاتا ہے۔
ہماری دانست میں امت مسلمہ تاریخ کی واحد ایسی قوم ہے، جس نے روزِ اول سے مخالفت کا سامنا کیا، سازشوں کا مقابلہ کیا، مگر تمام کلفتوں کے باوجود اس کی روشنی آج بھی تاباں ہے۔اس کامیابی کی پہلی اور بنیادی وجہ خدا کی جانب سے وعدۂ حفاظت ہے، پھر مسلمانوں کی جہد مسلسل، ان کا اخلاص اور عزم و ہمت بھی۔ تاریخ شاہد ہے کہ ہمیشہ امت مسلمہ میں ایسی انقلابی شخصیات پیدا ہوتی رہی ہیں جنہوں نے وقت کا دھارا بدل دیا۔ غور کیا جائے تو یہی شخصیات ہمارا بہترین اور لائق فخر مال ہیں، اور یہی شخصیات امت مسلمہ کے نفع بخش ہونے کا زندہ ثبوت ہیں۔ ان کی زندگیاں ہمارے لیے قابل عبرت ہیں۔
موجودہ دور میں ظاہری طور پر اگر ہم تعلیمی، اقتصادی، سماجی، رفاہی اور سیاسی میدانوں میں جائزہ لیں، تو ہمیں نظر آتا ہے کہ آج ایسی شخصیات عنقا ہیں، جنہیں امت کا اوریجنل مال اور بہترین سرمایہ تصور کیا جاسکے۔ افسوس کی بات ہے کہ عموماًاہم مناصب پر فائز مسلم چہرے بھی آج اسلام کی ترجمانی سے محروم ہیں، اور مغربی افکار کے حامل و شیدائی ہیں۔یہی وجہ ہے کہ آج امت مسلمہ اقوام عالم میں اپنی نافعیت کا ثبوت پیش کرنے سے قاصر ہے اور چہار جانب سے دشمنوں کا لقمہ تر بنی ہوئی ہے۔ ظاہر بات ہے کہ اس میں ہماری کوتاہی کا دخل ہے، یہ تو اسلام کی خوبی ہے کہ اس کی فطرت میں بلندی مقدر ہے، ورنہ اگر امت مسلمہ آسمانی پیغام کی نسبت نہ رکھتی ہوتی تو نہ جانے کب کا وجود مٹ چکا ہوتا۔ مگر ہمیں محض اس نسبت پر مطمئن ہونے کی ضرورت نہیں ہے، بلکہ فکر کی ضرورت ہے کہ آخر پانی کہاں مر رہا ہے، ہم سے کون سی ایسی چوک ہورہی ہے کہ تمام تر کوششوں کے باوجود ہم اپنی نافعیت پیش کرنے سے قاصر ہیں۔
اس سلسلہ میں سب سے پہلی اور مؤثر فکر یہ ہے کہ ہم ایسا معاشرہ تشکیل دیں جس میں نسل نو فکری طور پر مسموم فضاؤں سے محفوظ ہو، اس کی سوچ بیدار ہو اور ذہن اسلامی ہو، اس کا عقیدہ سلامت ہو اور ایمان پختہ ہو، اس کی طبیعت میں دینداری ہو اور مزاج میں نرمی ہو، اسے اسلامی تعلیمات پر پورا انشراح ہو اور وہ اسلامی اخلاق کی حامل ہو، وہ زہریلے نصاب سے باخبر ہو اور تعمیری نصاب کی علم بردار ہو، وہ سوشل میڈیا کے مفید پہلوؤں سے واقف اور اس کی محرک ہو اور اس کے مضر پہلوؤں سے مجتنب ہو۔واقعہ یہ ہے کہ موجودہ دور میں اس کام کی بڑی اہمیت ہے، اگر ہم نے نسل نو کو مادیت کی ہوس میں بے مہار چھوڑ دیا تو تاریخ میں ہمارا نام ایک ظالم کی حیثیت سے شمار ہوگا، اور اگر ہم نے کچھ صبر سے کام لیا اور نسل نو کی نشو و نما میں کلیدی کردار نبھادیا تو امید ہے کہ آنے والی نسل دنیائے عالم میں اسلام کے پھریرے لہرنے کا نظارہ کرے گی۔
پیش نظر رسالہ سہ ماہی ’’تعمیر افکار‘‘ کی کوشش ہے کہ وہ قارئین تک ایسا مواد پہنچائے جو نسل نو کی نشو ونما میں مؤثر کردار ادا کرے، ہمیں امید ہے کہ اس رسالہ میں قارئین کو ان کی مطلوبہ چیزیں حاصل ہوں گی، اور وہ اس پر عمل بھی کریں گے،اور یہی رسالہ کا مشن ہے۔
Wednesday, January 8, 2020
اداریہ حدیث دل
حدیث دل
محمد نظام الدین ندویعلمی و فکری ذوق زندہ قوموں کی ایک اہم نشانی ہے، جس طرح انسانی جسم خون کے بغیر بے جان ہے، ٹھیک اسی طرح
وہ قوم بھی چوب خشک کی مانند ہے جو علم سے محروم ہو، اور اس کے ذوق سے نا آشنا ہو، انسان کی فطرت میں اللہ تعالیٰ نے جمود نہیں رکھا،بلکہ اس کے مزاج میں بعض ایسے اوصاف ودیعت کیے ہیں، جن کی بنیاد پر وہ ہمیشہ اپنے سامنے تمام طاقتوں کو زیر کرلیتا ہے، اب اگر انسان اس علم سے دور ہو جس میں خدا تعالیٰ کی رہنمائی شامل ہے، تو پھر اس کے یہ اوصاف ساری انسانیت کے حق میں مضر ثابت ہوتے ہیں، اور اگر انسان علم حقیقی کے قریب ہو تو پھر وہ پوری کائنات کے لیے رحمت ثابت ہوتا ہے، امت مسلمہ کو اسی لیے علم حقیقی سے وابستگی کی پہلی وحی میں تلقین کی گئی اور علم سے اس کا رشتہ غیر معمولی مضبوط کیا گیا، تاکہ اس کی رحمت و نافعیت تاقیامت دنیا کی دیگر اقوام کے مقابلہ میں باقی رہے۔چنانچہ جب تک امت مسلمہ نے اس کا پاس رکھا، تب تک دنیا اس کے ذریعہ ہونے والی ترقیات کی شاہد رہی۔ اور دشمن کی یلغار ہر چہار سمت سے ناکام ہوئی، لیکن جب علمی پسماندگی کا مرض مسلمانوں میں سرایت کرگیا تو دنیا پر اس کا اثر پڑا، انسانی علوم حیوانیت کا درس دینے لگے اور ایک عمومی اضطرابی کیفیت دنیا کے منظرنامے پر عیاں ہونے لگی۔ان حالات میں دنیا کے مختلف خطوں میں اہل علم مسلمان طبقہ پر ضروری ہے کہ اس پسماندگی سے اوپر اٹھنے کے جو طریقے کتاب و سنت کی روشنی میں ممکن ہوسکیں، وہ اختیار کریں، اور اپنے اپنے علاقوں کی ضرورت کو محسوس کرتے ہوئے علمی و فکری ذوق پیدا کرنے کا ماحول بنائیں۔
الحمدللہ چک پہاڑ سمستی پور کے علاقہ کے لیے یہ بڑی خوش آئند بات ہے کہ اللہ تعالیٰ نے وہاں بھی کچھ افراد کو یہ توفیق بخشی کہ سرد ماحول میں فضا کو کچھ حرارت دے سکیں، اور اس کے لیے ’’الہدی اسلامی مکتب‘‘ کا نظام قائم کیا گیا، ایک لائبریری کا قیام بھی عمل میں آیاجس میںچار الماریوںسے زائدکتابیںجمع ہو گئیں ہیں اور علاقہ کی مختلف جگہوں پر بچوں کے معیار کے مطابق اسلامی کوئز کے مسابقہ جات کا نظم بھی کیا گیا، اور اس کے علاوہ بھی کام کی مختلف ایسی شکلیں اختیار کی گئیں، جن سے علمی و فکری ماحول پروان چڑھتا ہے۔
یہ شمارہ جو کہ نذرِ قارئین ہے، دراصل اسی سلسلہ کا امتداد ہے، ہمارا ارادہ ہے کہ اگر توفیق الٰہی شامل حال رہی تو ان شاء اللہ ہر تین مہینہ میں ایک علمی و فکری اور اصلاحی ترجمان بھی نکالیں گے، چونکہ ابھی مالی وسائل کی کمی ہے، اس لیے ’’الحکمۃ ضالۃ المؤمن‘‘ کے تحت ارادہ ہے کہ ابھی آن لائن برقی میگزین(پی ڈی ایف) کی شکل ہی میں شائع کریں۔ ربیع الاول کی مناسبت سے ’’الہدی‘‘ کا یہ پہلا شمارہ سیرت کے مضامین پر مشتمل ہے، ہماری کوشش ہوگی کہ آئندہ شماروں میں بھی آپ تک ایسا مواد فراہم کیا جائے جو آپ کے لیے دلچسپی کا سامان ہو اور ہمارے لیے بھی ذریعہ آخرت ثابت ہوسکے۔
اسلاف کا شوق مطالعہ ۔۔۔۔۔۔مگر وہ علم کے موتی کتابیں اپنے آباء کی !محمد قمر الزماں ندوی ۔۔۔۔۔۔
اسلاف کا شوق مطالعہ ۔۔۔۔۔۔ مگر وہ علم کے موتی کتابیں اپنے آباء کی ! محمد قمر الزماں ندوی ۔۔۔۔۔۔ مدرسہ نور الاسلام موئی کلاں کنڈہ پرتاپگڑھ 95...
-
ما ں کے پیروں تلے جنت ہے فطرت سلیمہ اور عقل سلیم کاتقاضا یہ ہے کہ انسان اپنے محسن کے ساتھ حسن سلوک کا برتائو کرتا ہے اوراس کا احسان مان...
-
کو ئی رفیق نہیں ہے کتاب سے بہتر کتاب کی صحیح تعریف یہ ہے کہ اس کے مطا لعہ سے ہما را یہ احساس قو ی ہو کہ ہم نے...