Followers

Monday, July 7, 2025

اسلاف کا شوق مطالعہ ۔۔۔۔۔۔مگر وہ علم کے موتی کتابیں اپنے آباء کی !محمد قمر الزماں ندوی ۔۔۔۔۔۔

اسلاف کا شوق مطالعہ ۔۔۔۔۔۔

مگر وہ علم کے موتی کتابیں اپنے آباء کی !

محمد قمر الزماں ندوی ۔۔۔۔۔۔
مدرسہ نور الاسلام موئی کلاں کنڈہ پرتاپگڑھ 9506600725 
                        
بزرگانِ سلف کو کتابوں سے کس درجہ وابستگی تھی اور ان کا شوق مطالعہ کس قدر لائق قدر اور قابل رشک تھا، اس کا اندازہ لگانا ہو تو، نواب حبیب الرحمن خاں شیروانی مرحوم کی کتاب
،، علمائے سلف اور نابینا علماء،، کا مطالعہ کیجئے، جو اس موضوع پر انتہائی معرکة الآراء ،مفید و موثر، معلومات سے پر اور مرجع کی حیثیت والی کتاب ہے ۔ حقیقت یہ ہے کہ اگر آج ان کی میراث نہ ہوتی، تو علوم دینیہ، ان کے جمع کردہ اور ترجمہ کردہ علوم تک ہماری رسائی ناممکن تھی ،جو کتابیں ضائع ہوگئیں اور جن کی حفاظت ہم نہیں کرسکے ان کی تعداد بھی کم نہیں ہے، علامہ اقبال رح نے یورپ کے کتب خانوں میں جب علماء مشرق کی کتابیں دیکھیں تو ان کا احساس آنسو بن کر ٹپک پڑا ع/ 

مگر وہ علم کے موتی کتابیں اپنے آباء کی 
جو دیکھیں ان کو یورپ میں تو دل ہوتا ہے سیپارہ 

    دور نہ جائیے ابھی ایک پشت پہلے تک ، بہت سے اہل علم اگر کوئی کتاب خریدتے تو اس پر یہ شعر لکھا کرتے تھے _ 
جمادے چند دادم ،جاں خریدم 
بسے نازم عجب ارزاں خریدم 

آپ سب جانتے ہیں کہ عربی میں کتب خانہ کو خزانة الکتب کہا جاتا ہے اور بالکل درست اور صحیح ہے، کیونکہ یہ خزانہ بھی زر و جواہر کی قیمت عارضی اور وقتی ہوتی ہے اور آنی جانی شئی ہے، مگر علم کے موتی سدا بہار و پائیدار رہتے ہیں ۔۔ 
     مشہور عالم دین، صاحب قلم ، معروف صحافی اور قدیم صالح اور جدید نافع کے جامع اور سنگم ڈاکٹر مولانا عبد اللہ عباس ندوی رح اپنی ایک تحریر میں اسلاف کا شوق مطالعہ کے حوالے سے لکھتے ہیں:

"یہ بات دلچسپی سے خالی نہ ہوگی کہ بہت سے مشہور مصنفین جن کے نام ہم سنتے ہیں ان میں خاصی تعداد ایسے لوگوں کی ہے جو کسی کتب خانہ کے ناظر یا امین تھے- چنانچہ مؤرخ ابن مسکویہ کتب خانہ وزیر ابو الفضل بن العمید کے ناظر تھے-یہ کتب خانہ فارس کے شہر ٫٫رے؛؛ میں تھا جو طہران سے بہت دور تھا-یہ ٫٫رے؛؛ وہی ہے جس کی طرف علامہ اقبال مرحوم نے اس شعر میں اشارہ کیا ہے- ع
کیا بات ہے صاحب دل کی نگاہ میں 
جچتی نہیں ہے سلطنت روم وتخت رے 
یہ کتب خانہ اور اس وقت کے تمام ہی کتب خانے عوام و خواص کے لئے عام تھے-مطالعہ کے لئے کسی قسم کی اجرت نہیں لی جاتی تھی -بلکہ عضد الدولہ کے کتب خانہ میں مصنفین و محققین کو قلم اور روشنائی اور قراطیس (اس عہد کے کاغذ کی خاص قسم) بھی فراہم کئے جاتے تھے-اگر کوئی دور دراز سے سفر کرکے آیا ہو تو اس کا یہ حق سمجھا جاتا تھا کہ کتب خانہ کے عملہ وقف کردہ مال سے اس کے لئے کاغذ قلم فراہم کرے-البتہ جو کتب خانہ سے باہر لے جاکر پڑھنے کے لئے عاریۃ مانگتے ،ان سے مالی ضمانت طلب کی جاتی- یا کوئی قیمتی چیز بطور رہن رکھنا پڑتا تھا- 
یاقوت الحموی کا بیان ہے کہ ان کو بلا رہن رکھے ہوئے کتابیں مل جایا کرتی تھیں- شہر مرو جسے انہوں نے 616 ہجری میں چھوڑا ہے، اس کے بارے میں لکھتا ہے کہ:
یہاں ایک نہیں کئی کتب خانے تھے اور مجھے سب بلا رہن کے عاریۃ دے دیا کرتے کرتے تھے، میرے گھر پر ہمیشہ دو سو سے کم کتابیں نہیں رہیں جن کی قیمت دو سو دینار سے کم نہ ہوگی ،،
یاقوت الحموی لکھتے ہیں:
( میں دبستان علم کے میووں ،فکری غذا اور منتخب و نادر اشیاء کی جستجو کرتا رہا اسکی محبت نے ہر شہر کی یاد فراموش کرا دی -اور اسکی محبت نے ایسا لبھایا کہ اہل وعیال سے غافل کر دیا -اس کتاب معجم البلدان اور اسکے علاؤہ کتابوں میں جو کام کی چیزیں جمع ہو گئی ہیں وہ سب انہیں کتب خانوں کا فیض ہے-)
قابل ذکر بات ہے کہ علامہ ابن خلدون نے جب اپنا شہرۂ آفاق مقدمہ مسجد قروین کے ملحقہ کتب خانہ کے لئے وقف کر دیا تھا -اور وقف نامہ مورخہ 21 صفر 799ہجری مطابق 24/نومبر 1398ء میں یہ شرطیں لکھی گئی تھیں:
(1) یہ کتاب مستعار صرف اسی کو دی جائے جس پر مکمل اعتماد ہو-
(2) بطور رہن کے بڑی رقم یا چیز رکھا لی جائے-
(3) دو ماہ سے زیادہ کے لئے ایک شخص کو مستعار نہ دی جائے کیوں کہ یہ مدت مطالعہ یا نقل کے لیے کافی ہے-
(4) ناظر کتب خانہ کا فرض ہوگا کہ اس وقفیہ (دستاویز وقف) کی پابندی کر لے اور کتاب جب مستعار دی جائے تو واپسی کا مطالبہ کرتا رہے-
اہل اندلس کے اندر حصولِ علم اور نایاب علمی کتابوں کی جستجو کا مادہ بہت زیادہ تھا- خود خلفاء (سربراہان مملکت) اور ان کے اثر سے عام حکام بھی کتابیں نقل کرانے،اور نقل شدہ کاپیاں خریدنے کا خاص ذوق رکھتے تھے-ان خلفائے اندلس میں حکم ثانی المستنصر باللہ (زمانہ حکومت 350تا 366 ہجری)کو علمی شغف زیادہ تھا-قرب وجوار یا دور دراز میں کہیں کسی اہم کتاب کا ذکر سنتا تو اس کو حاصل کرکے قصر قرطبہ کے کتب خانہ میں داخل کراتا تھا -
صعدہ بن احمد کا بیان ہے کہ:
   خلیفہ حکم نے بغداد،مصر اور دوسرے شہروں سے نادر کتابیں منگا کر اپنے کتب خانہ میں جمع کی تھیں ،ہر علم و فن کی کتابیں قرطبہ کے شاہی محل کے ملحق کتب خانہ میں موجود تھیں- اس نے تنہا اتنا بڑا اور ضخیم کتب خانہ تیار کرا لیا تھا کہ خلفائے بنو العباس اپنے دور حکمرانی میں سب مل کر نہیں جمع کر سکے تھے-بات یہ تھی کہ خود اس کے اندر علمی ذوق تھا اس کی وجہ سے اس کے وزیر اور اسکے حکام کے اندر بھی علم کا ذوق اور کتابیں جمع کرنے کا شوق بڑھا-ان کی تقلید میں دوسرے سفید پوش کھاتے پیتے گھرانوں میں اس کا ذوق عام ہوا- حکام سے جو تقرب چاہتا وہ کسی نایاب کتاب کی نقل کرکے حاضر کرتا غرض حصولِ علم کا ایک عام چلن ہو گیا- اور لوگ اسی کو دینی و دنیوی ترقیات کا ذریعہ سمجھتے تھے-
کتابیں جمع کرنے کا شوق صرف خلفاء اور حکام ہی میں نہیں بلکہ عام اہل علم، مؤرخین،ادباء اور فقیہوں میں بھی تھا-
ایسے بہت سے علماء و ادباء کے نام ملتے ہیں جن کے کتب خانے مشہور تھے۔
قاضی عبد الرحمن فطیس جن کو 394ہجری میں قرطبہ کے قاضی کا عہدہ تفویض ہوا تھا -کتابیں جمع کرنے کے بڑے شائق تھے -اور کتابوں کے حریص اور بخیل دونوں مشہور تھے-کبھی مستعار کتاب نہیں دیتے تھے -بس اسکی اجازت تھی کہ یہاں پڑھو یا نقل کرو- اگر کسی نے بہت ہی اصرار کیا تو اپنے پاس سے معاوضہ دے کر مطلوبہ کتاب کی ایک نقل کرا دیتے - اگر وہ واپس کر دیتا تو دوسرے شائق کے لئے رکھ لیتے اور اگر واپس نہ کرتا چشم پوشی کرتے- اندلس کے مشہور ادیب اور جغرافیہ کے ماہر ابو عبید البکری (م 487ھج) کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ کتابوں کے صرف رسیا ہی نہ تھے بلکہ اگر کوئی کتاب مل جاتی تو تعویذ کی طرح اس کی حفاظت کرتے اور اپنے شانے کے رومال میں لپیٹ کر رکھتے ۔
فقیہ محمد بن القاسم الانصاری سبتہ مراکش کے باشندے اور پندرہویں صدی عیسوی کے بزرگ ہیں لکھتے ہیں کہ سبتہ پر پرتگالیوں کے حملے سے پہلے 808ھج مطابق 1415ء وہاں 62/ کتب خانے تھے ان میں سب سے بڑا کتب خانہ شیخ ابو الحسن الشاری کا تھا جو انہوں نے اپنی ذاتی رقم سے کتابیں خرید کر جمع کیا تھا ،یہ پہلا کتب خانہ تھا جو بلاد مغرب میں اہل علم کے لیے وقف کیا گیا ۔( اختصار الاخبار بشغر سبتة من سنی الآثار مؤلفہ محمد بن القاسم الانصاری مطبوعہ رباط 1982ء)
امیر اسامہ بن منقذ نے
 ،،کتاب الاعتبار ،، میں صلیبیوں کے اس حملہ کا ذکر کیا ہے جو انہوں نے عگاکی کی بندرگاہ پر کیا، وہاں جس بحری بیڑے پر وہ اپنے اہل و عیال اور اثاثہ کے ساتھ مصر سے آرہے تھے، اس کو صلیبیوں نے لوٹ لیا ۔اس میں تیس ہزار دینار تھے جسے نصرانیوں کے بادشاہ نے اپنی تحویل میں لے لیا اور پانچ سو دینار ان کو واپس کر دئیے ۔کہ یہ تم سب کو واپسی کے لیے کافی ہوگا ۔امیر اسامہ لکھتے ہیں کہ اس بحری بیڑے میں
 ،، ریے ،،خاندان کے پچاس نفر تھے ۔ مال جو گیا سو گیا ہی لیکن اس میں میری کتابیں بھی تھیں ۔کتابوں کی چار ہزار جلدیں تھیں اور سب سے اہم مراجع اور نایاب قسم کی کتابیں تھیں ۔ ان کے جانے کا زخم زندگی بھر تازہ رہے گا " ۔۔ (ماخوذ و مستفاد از کتاب مشاہیر و معاصرین رشحات قلم ڈاکٹر عبد اللہ عباس ندوی رح)--

نوٹ/ مضمون کا باقی حصہ آئیندہ ملاحظہ فرمائیں ۔

Thursday, January 9, 2025

میرے والد کی لائیبریری

 *میرے والد کی لائبریری*


تحریر : مہر افشاں بنت شمس الرحمٰن فاروقی 


ترجمہ:نایاب حسن


میں کتابوں سے بھرے گھر میں پلی بڑھی،جہاں  ہر کمرے میں کتابیں ہی کتابیں  تھیں، کتابیں ہی ہماری شناخت اور تعارف کا وسیلہ تھیں، میری والدہ ماہر تعلیم تھیں اور والد  سول سروینٹ اور ایک ابھرتے ہوئے ادیب و ناقد تھے۔ وہ اپنی مصروف زندگی سے جتنا وقت نکال پاتے، اسے پڑھنے لکھنے میں صرف کرتے؛البتہ ان کے مطالعے یا ادبی مصروفیات کے لیے کوئی  مخصوص  جگہ نہیں تھی؛ کیونکہ ہمارا  گھر اتنا بڑا نہیں تھا۔

ایک چھوٹی بچی کے طور پر میری سب سے پیاری یادیں والد کے ساتھ کتابوں کی بڑی سی دکان’ یونیورسل بک کمپنی‘ جانے اور وہاں بچوں کے حصے میں گھنٹوں گزارنے کی ہیں، اس دوران والد ادبی تخلیقات سے معمور بک شیلف کھنگالتے رہتے اور بالآخر وہ وہاں سے کتابوں کا ایک بنڈل خریدتے اور ہمیشہ میرے لیے بھی کچھ کتابیں لیتے۔

1964  میں  ’شب  خون‘  کے اجرا کے بعد ہمارے گھر میں اردو جرائد  کثیر تعداد میں آنے لگے۔ان میں کچھ  ادبی مجلات تھے جیسے ’نقوش‘، ’فنون‘، ’سیپ‘، ’شاعر‘، ’تحریک‘،’ کتاب‘ اورکچھ ’ بیسویں صدی ‘اور’ شمع‘ جیسے رسائل تھے۔ ان میں سے بہت سے لاہور اور کراچی سے آتے تھے؛ لیکن زیادہ تعداد ممبئی، پٹنہ، لکھنؤ اور حیدرآباد سے آنے والے رسائل کی تھی۔ میں  اردو جریدے ’کھلونا‘ کی آمد کا بطور خاص  انتظار کیاکرتی، جسے میں  لطف لے کر پڑھتی تھی۔

جب والد کا ٹرانسفر الہ آباد سے لکھنؤ ہوا، تو ان کے سامان میں زیادہ تر کتابیں ہی تھیں (وہ  کالی داس مارگ پر ایک فرنشڈ سرکاری  گیسٹ ہاؤس میں مقیم  تھے)۔ آخر میں وہ ریور بینک کالونی کے ایک مکان میں منتقل ہوگئے تھے اور وہاں ان کی کتابوں میں ڈرامائی  طور پر اضافہ ہونے لگا۔

لکھنؤ میں کتابوں کی دکانیں الہ آباد سے کہیں زیادہ تھیں، پرانے شہر میں اردو کتابوں کی دکانیں تھیں، مجھے یاد ہے کہ اردومکتبوں میں ایک قسم کی سنجیدگی ہوا کرتی تھی، میرے جیسے نوعمروں کے لیے وہاں کا ماحول دلچسپ نہیں تھا۔ اردو کے نوعمر قارئین کے لیے شاید ہی وہاں  کتابیں ہوں گی۔ (والد نے مجھے وہیں سے  پریم چند کی مختصر کہانیوں کا مجموعہ’ پریم پچیسی‘ خریدکر دیا تھا)۔

لکھنؤ میں مستعمل کتابوں کی بھی  بہت سی دکانیں اور کتابیں مستعار دینے والی لائبریریاں  بھی تھیں۔ حضرت گنج، لکھنؤ کے کی ایلیٹ مارکیٹ میں، ایک پسندیدہ مقام ’ہابی کارنر‘ تھا، وہاں’کوچۂ محبت ‘ نامی دلچسپ گلی کے عین بیچ میں مستعمل کتابوں کی ایک دکان تھی۔ ’کوچۂ محبت‘ ایک تنگ سی گلی تھی، یہ ایک مسقف بازار ، گڑبڑ جھالا کا ایک اعلیٰ ورژن تھا، جو خریداروں سے بھرا ہوتا تھا،وہاں کی فضا بازار میں بکنے والی عطریات سے معطر رہتی تھی۔

کندن جیولری چمکتے ہوئے شیشے کے کیسوں میں نظر آتی، چکن کری کے کرتے  ہینگروں میں لٹکتے رہتے  اور ایک غیر متوقع مقام پر  ملبوسات کے سامانِ آرایش کی  دکان کے علاوہ ایک لکڑی کی سیڑھی بھی ٹکی ہوتی ۔ ایک شخص کمزور سے جنگلے پر  لٹکی اس سیڑھی پر چڑھتا اور کتابوں کے عجائبستان میں پہنچ جاتا۔ وہاں سے آپ اپنی پسند کے مطابق  کتابیں دیکھ سکتے، خرید اور ادھار لے سکتے تھے۔

ہر اتوار کو پرانے شہر کے نخاس میں مستعمل کتابوں کا بازار لگتا تھا، ہم وہاں جاتے،وہاں  کتابیں پرانی چادروں، کبھی جوٹ کے تھیلوں اور ترپالوں پر رکھی ہوتی تھیں۔ اگر کسی کو بہت سی کتابیں خریدنی ہوتیں ،تو انھیں  دیکھنے، منتخب کرنے اور مول بھاؤ کے لیے  وہیں کسی کتاب فروش کے بیٹھنے کی جگہ پر ٹکنا پڑتا تھا۔ کبھی کبھار کسی کو کوئی قیمتی چیز مل جاتی، جیسے کسی کتاب کا پہلا ایڈیشن یا کوئی پرانی کتاب جو اب نہیں چھپتی ۔

ریور بینک کالونی والے گھر میں کتابیں بڑے بڑے ڈھیرکی شکل میں جمع ہونے لگیں؛ کیونکہ کتابوں کے لیے مناسب تعداد میں الماریاں نہیں تھیں۔ یہ کراے کا مکان، جیسا کہ مجھے یاد پڑتا ہے، پوری طرح تیار بھی نہیں تھا۔ اس بار جب والد کا تبادلہ ہوا، تو کتابیں پیک کرنے میں ہفتوں لگ گئے۔

دیو نگر ، دہلی والا گھر کافی بڑا تھا۔ میری والدہ نے پنچکوئیاں روڈ سے دیگر فرنیچر کے ساتھ  کتابوں کی الماریاں بھی خریدیں،مگریہ الماریاں بہت جلد کتابوں کے لیے کم پڑنے لگیں۔ والد کا ذخیرۂ کتب  وسیع و عریض تھا ،ان میں  ادبی تنقید، شعری اور افسانوی مجموعے (اردو اور انگریزی)، ناول، جاسوسی کہانیاں، کلاسیکی ادبی سیریز، انسائیکلوپیڈیا، نادر ونایاب  لغات ہر قسم کی کتابیں تھیں۔

انھیں جاسوسی(اور کچھ عرصے تک دہشت ناک) کہانیاں  پڑھنا پسند تھا ۔ دوسرے سنجیدہ شائقینِ کتب  کی طرح انھوں نے بھی ہر قسم کی کتابیں جمع کیں۔ پھر فاضل کتابیں الہ آباد والے  گھر بھیجی جانے لگیں اور وہاں کی الماریاں بھی ان کتابوں سے بھر گئیں۔

یہ سلسلہ چلتا رہا، یہاں تک کہ  والد صاحب کے سرکاری ملازمت سے ریٹائرمنٹ  کا وقت آگیا۔اس کے بعد وہ  سب سے پہلا کام یہ کرنا چاہتے تھے کہ ان کی ذاتی لائبریری ہو؛چنانچہ الہ آبادوالے گھر کی پہلی منزل پراس کی تعمیر شروع ہوئی،ان کامنصوبہ یہ تھا کہ یہ لائبریری دو کمروں اور ایک ہال پر مشتمل ہوگی۔ پہلا کمرہ دارالمطالعہ ہوگا، دوسرا مہمانوں کے لیے ہوگا اور ہال میں صف بستہ کتابوں کے ریک ہوں گے۔

کتابوں کو اوپر پہنچانا ایک مشقت بھرا کام تھا؛ لیکن یہ بھی ہو گیا۔ دفتر کو منظم انداز میں تیار کیا گیا  اور الہ آباد کی شدید گرمیوں سے نمٹنے  کے لیے اے سی لگایا گیا۔ لائبریری کے باب الداخلہ پر خوب صورت اردو میں لکھا ہوا والدصاحب کا نیم پلیٹ چسپاں کیا گیا۔

گفتگو کے اصل نقطے  پر پہنچنے کے لیے میں یہاں کچھ تفصیلات سے گریز کرتی ہوں۔ والد اگرچہ اس وقت 58 سال کے تھے، مگر دل کی بیماری میں مبتلا تھے، وہ دن میں کئی بار سیڑھیاں چڑھنے سے تھک جاتے، اے سی کے باوجود گرمیوں میں کمرہ کافی گرم ہو جاتا ، ہال ناقابل برداشت حد تک گرم ہوجاتا، گوکہ پنکھا چلتا رہتا۔ گرمیوں میں دھول دھکڑ کے ساتھ  چلنے والی ’لو‘ کھڑکیوں سے زور آزمائی کرتی اور  ہر چیز پر دھول کی تہیں جم جاتیں،غسل خانے میں پانی کا مسئلہ بھی  تھا۔

بالآخر  والدہ جو والد کی صحت کے تئیں فکرمند رہا کرتی تھیں،انھوں نے اصرار کیا کہ وہ نیچےآ جائیں اور ڈرائنگ روم(جو ڈائننگ ہال بھی تھا) کو اپنی لائبریری بنالیں۔ ایک بار پھر کتابوں کو منتقل کیا گیا ،البتہ  اس اقدام سے والد صاحب کو ایک موقع ملا  کہ وہ کتابوں کے بہت بڑے ذخیرے میں سے کچھ منتخب کرلیں؛چنانچہ   فکشن، جاسوسی ناول اور دیگر کم ادبی اہمیت کی چیزیں اوپر والے ہال میں رہنے دی گئیں۔   کتب خانوں اور اُن افراد کو اچھی خاصی تعداد میں کتابیں عطیہ کی گئیں، جو ان کے خواہش مند  تھے اور انھیں پاکر خوش ہوئے۔

والد کی میز سابقہ ڈرائنگ روم میں لگادی گئی ، مضامین کے مطابق احتیاط سے کتابیں مرتب کی گئیں، ایسے منصوبوں کی تکمیل کے لیے معاونین  کا انتظام ہمیشہ والدہ نے   کیا۔ والد بہت جلد کمپیوٹر استعمال کرنے لگے تھے، ان کے ڈیسک ٹاپ کمپیوٹر کے ساتھ ایک علیحدہ ڈیسک نصب تھا۔ اب ان کے پاس ایک ایسی جگہ تھی ،جہاں وہ اپنی محبوب کتابوں سے گھرے رہتے اور یہ  ان کے لیے موزوں تھی، ایک بڑی دیواری الماری میں لغات کا ڈھیر لگا ہوا تھا، کم از کم 50 کتابیں تو ہوں گی، کچھ بہت پرانی اور نایاب اردو و فارسی زبانوں کی لغات بھی تھیں۔ ایک اور بڑا حصہ  غالب کے لیے وقف تھا، ایک اقبال کے لیے،ایک بڑا شیلف میر کے لیے اور اسی طرح دیگر بڑے شعرا و ادبا سے مخصوص گوشے تھے۔ادبی تنقید کی کتابیں ایک پوری دیوار پر قابض تھیں۔

  والد نے خالی دیوار  پر اپنے پسندیدہ آرٹس، تصاویر اور خطاطی کے نمونے فنکارانہ انداز میں چسپاں کر رکھے تھے، ان کی میز پر مختلف  اسفار سے لائے ہوئے انتہائی دلچسپ نوادرات رکھے ہوتے، ان کی میز پر ان کے بچپن کی ایک تصویر بھی  ہوتی(اب بھی ہے)، جب وہ بمشکل پانچ سال کے ہوں گے، جس میں وہ اپنے والد کے قریب، دو دگر بہن بھائیوں کے ساتھ کھڑے ہیں۔ لائبریری کا ماحول علمی؛ لیکن دوستانہ ہوتا۔

یہ لائبریری گھومنے پھرنے کی پسندیدہ جگہ بن گئی، والد صاحب  وہیں مہمانوں کا استقبال کرتے۔  دارجلنگ کی چائے ایک خوبصورت ٹی پاٹ  میں تیار کی جاتی اور مساوی سائز کے کپوں میں دن بھر یہاں آنے والوں کو متعدد بار پیش کی جاتی۔ خاص خاص موضوعات پر گفتگو اور انٹرویوز یہیں ہوا کرتے ۔

چونکہ والد صاحب ریٹائرمنٹ کے بعد الہ آباد میں دوبارہ مقیم ہوگئے تھے ؛اس لیے گھر اورخصوصاً  لائبریری ادبی گفتگو کا مرکز بن گئی تھی۔ ایک بار پھریہاں کتابوں کا ذخیرہ بڑھنے لگا۔ فرش سے  چھت تک کتابوں کے ریک تیار کروائے گئے ،اس طرح  لائبریری نے بالکل  نئی شکل اختیار کرلی۔ یہیں بیٹھ کر والد نے اپنا مشہور ناول ’کئی چاند تھے سرِ آسماں‘ لکھا۔

2007 میں میری والدہ کا انتقال اس لائبریری کی تاریخ کا ایک اہم سانحہ تھا۔میری والدہ ،والد کی تمام ترمساعی کی سب سے بڑی مداح اور معاون تھیں۔ حادثاتی طور پر گرنے  اور اس کے نتیجے میں سرجری کے بعد کی پیچیدگیوں کی وجہ سے غیرمتوقع طورپر ان کا انتقال ہم سب کے لیے دل دوز  سانحہ تھا۔ ایک بیٹی کے لیے اس نقصان کے اثرات کا تصور بھی مشکل ہے ، میرے والدین کالگ بھگ  50 سال کا ساتھ تھا ، دونوں مکمل ہم آہنگی کےساتھ بوڑھے ہو رہے تھے۔

ماں بلا کسی رکاوٹ کے گھر چلاتی تھیں، انھوں نے والد کو اپنی ادبی مصروفیات کے لیے لامحدود اسپیس دیا، ’شب خون‘ کے آغاز کے دوران جدوجہد کے سالوں میں ان کی معاونت  کی ، انھوں نے ایک کامیاب کیریئر کے ساتھ الہ آباد میں اپنے گھر کے نظم و نسق کو سنبھالا، والد کے ساتھ  مل کر وہاں لائبریری بنائی۔

والد کا کتب خانہ ان کے تخلیقی سفر کا سب سے بڑا نمونہ ہے۔ دور دراز کے شہر شارلوٹز وِل (ورجینیا)میں بیٹھ کر  اس کے بارے میں سوچتے اور لکھتے ہوئے میرے ذہن میں اس کمرے کی شروع سے آخر تک کی بہت سی تصویریں ابھر رہی ہیں ۔ سب سے قدیم ڈرائنگ روم(جو ڈائننگ روم بھی تھا)کی ہے، جس میں بریلی کا ’صوفہ سیٹ‘ اور تین سیٹوں والا بنچ تھا، جسے ماں نے اپنی مرضی کے مطابق تیار کروایا تھا۔ ایک معمولی سا کشمیری اخروٹ کی لکڑی کا سینٹر ٹیبل اور ایک سرے پر کشمیری نیسٹنگ ٹیبل، وہاں کوئی قالین نہیں تھا؛ کیونکہ والد نے فرش کو ایک کلاسک بلیک اینڈ وائٹ پیٹرن پر ڈیزائن کیا تھا۔

کمرہ ہمیشہ سردیوں میں ٹھنڈا اور گرمیوں میں بہت گرم محسوس ہوتا تھا۔ کھانے کی میز پرانے طرز کی پتری دار تھی، جس کے گرد  چھ مضبوط کرسیاں رکھی ہوتیں۔ یہ اکثر میرے لیے ایک متبادل مطالعے کی میز کے طور پر کام کرتی۔ ہم  ڈرائنگ روم صرف رسمی مہمانوں کے لیے استعمال کرتے، عموماً  آرام دہ کرسیوں والے دو کشادہ برآمدوں پر ہی  مہمانوں کا خیرمقدم کیا جاتا ۔

لائبریری ملحقہ برآمدے تک پھیل گئی تھی۔ والد کے سب سے حیرت انگیز کتابی ذخیرے’ داستانِ امیر حمزہ‘ کی 45 جلدوں کا مکمل سیٹ ایک سٹیل کی الماری میں رکھا گیا ۔ والد کی ذاتی ادبی تخلیقات و تصانیف اتنی زیادہ  تھیں کہ انھیں  خود اپنی کتابوں کے  لیے ایک مکمل الماری کی ضرورت تھی۔’ شب خون‘ کے شماروں  کا ذخیرہ بھی یہیں رکھا گیا، جریدے کے  چالیس  سالہ شمارے مجلد بندھے ہوئے ہیں اور ہارڈ کاپی میں محفوظ ہیں۔

مختلف شہروں لکھنؤ، دہلی، پٹنہ وغیرہ میں والد کی پوسٹنگ کے دوران یہ کمرہ کبھی کبھی  کھانے کے لیے بھی استعمال ہوتا تھا۔عموماً میری چھوٹی بہن اور میں  والدہ کے ساتھ ان کے کمرے میں کھانا کھایا کرتے ۔ جب کھانے کی میز کو لائبریری کے لیے جگہ بنانے کے لیے برآمدے میں منتقل کیا گیا، تب سے اسے کھانے کے لیے استعمال کیا جانے لگا۔

کمپیوٹر ڈیسک  ان دنوں کوئی خریدی جانے والی چیز نہیں تھی، ایک پرانی میز اس کے لیے کافی سمجھی جاتی تھی۔ مجھے کمپیوٹر اسکرین کے قریب رکھا کی بورڈ اب بھی یاد ہے،بھاری  بھرکم سی پی یو  فرش پر  رکھا گیا تھا، پرنٹر کے لیے جگہ نہیں تھی؛ اس لیے اس کے لیے  الگ سے انتظام کیا گیا اور اسے ایک چائے کی میز پر رکھا گیا۔ کچھ سالوں بعد ایک سکینر خریدا گیا اور قریبی میز پر رکھا گیا۔ان کی  تاریں اکثر الجھ جاتی تھیں؛ کیونکہ انٹرنیٹ راؤٹر بھی  ڈیسک پر ہی تھا۔

لائبریری کے داخلی دروازے کے ساتھ ہی ایک صوفہ تھا۔ پہلے تو زائرین صوفے پر بیٹھتے ہوں گے؛ لیکن آہستہ آہستہ یہ بھی کتابوں سے بھر گیا تھا۔ یہ وہ کتابیں تھیں جو تقریباً روزانہ بڑی تعداد میں مختلف مصنفین ، شاعروں ،مضمون نگاروں اور فکشن نویسوں کی جانب سے پہنچتی تھیں،ان میں شعری مجموعوں کی تعداد زیادہ ہوتی تھی۔

جریدۂ ’شب خون‘ کے کے بند ہونے کے بعد اس کی جگہ ’خبرنامہ‘ نے لے لی۔ ’خبرنامہ‘ اپنے نام کے مطابق  مشمولات کے ساتھ زندہ رہا، یہ نئی کتابوں کی رپورٹس، تبصروں اور خطوط وغیرہ پر مشتمل ہوتا تھا۔ والد ایک عظیم مکتوب نگار بھی تھے، انھوں نے اپنے زمانے کے ادباکو اپنے ہاتھ سے ہزاروں خطوط لکھے ہوں گے۔ کچھ خطوط شائع بھی ہو چکے ہیں؛ لیکن ان کے مکاتیب کا ایک بڑا ذخیرہ غیر مطبوعہ ہے ،جنھیں  ترتیب دینے کی ضرورت ہے۔

’خبرنامہ‘ بھی اکیلے نہیں نکالا جا سکتا تھا؛اس لیے  ایک سیکرٹری کی ضرورت تھی۔ اب خالی جگہ میں ایک تیسرا ڈیسک رکھا گیا ۔ یہ اس لیے ممکن ہوا کہ کتابوں  کی شیلفیں  فرش سے چھت تک دیواروں سے لگی ایستادہ تھیں،  بھاری بھرکم ریک ہٹا دیے گئے۔ گزرتے وقت  کے ساتھ ساتھ  اس  بڑے سے  کمرے میں اور بھی چیزیں  ایڈجسٹ ہوتی رہیں ۔ کمرے کا بوسیدہ سیاہ و سفید فرش لینولیم سے ڈھکا ہوا تھا اور جب وہ کھردری ہو گئی، تو مخصوص قسم کے قالینوں سے  کمرہ روشن ہوگیا۔

اپنے آخری سالوں میں، والد کو اس بڑے مسئلے کا سامنا تھا کہ ان کی پیاری لائبریری کا کیا کرنا ہے؟  کتابیں کسی  آرکائیو لائبریری کو عطیہ کردی جائیں یا انھیں اِسی جگہ  اسکالرز کے مصدر و مرجع کے طور پر محفوظ رکھا جائے؟ ان کا خواب یہ تھا کہ کتابوں کا یہ ذخیرہ کسی ایک جگہ پر رکھا جائے اور ممکنہ طور پر اسے ایک دارالمطالعہ میں تبدیل کردیا جائے، جو محققین کے لیے کھلا رہے۔ ہم( ان کی بیٹیوں) نے انھیں یقین دلایا کہ ہم اس لائبریری کی دیکھ بھال کریں گےاور اسے ایک ریسورس لائبریری بنانے کے ان کے خواب کو پورا کرنے کی کوشش کریں گے۔

میری بہن باراں نے کتابوں کی فہرست سازی کے لیے پچھلے دنوں  ریٹائر ہونے والے ایک پروفیشنل لائبریرین کی خدمات حاصل کرکے اس پروجیکٹ کا  سنجیدگی  سے آغاز کیا ۔ کئی وجوہات(جنھیں یہاں بیان کرنے کی ضرورت نہیں) کی بنا پر یہ کام آسان نہیں تھا؛ لیکن بہرحال  یہ منصوبہ اب تکمیل کے قریب ہے۔ اگلا قدم اس لائبریری کو اس طرح زندہ و شاداب  رکھنا ہو گا کہ وہ  شمس الرحمن فاروقی کے ادبی وژن سے منور   گفتگووں اور لیکچرز کی بھی جگہ ہو۔

Thursday, July 13, 2023

مطالعے کی عادت کیسے ڈالیں؟ چودہ معاون طریقے تحریر:Leo Babautaترجمہ: نایاب حسن

مطالعے کی عادت کیسے ڈالیں؟ چودہ معاون طریقے 
تحریر:Leo Babauta
ترجمہ: نایاب حسن
”مطالعے کی عادت بنانااپنے لیے زندگی کی تمام مشکلات اور غم وفکر سے دورایک محفوظ پناہ گاہ تعمیر کرناہے“۔(سمرسٹ ماہم)
معمول کی زندگی میں بہت سے لوگ آئے دن اپنے لیے کوئی نہ کوئی ہدف مقررکرتے رہتے ہیں،یہ الگ بات ہے کہ وہ اس ہدف کے تئیں کتنے سنجیدہ ہوتے اور اگر سنجیدہ ہوتے ہیں،تو وہاں تک پہنچ پاتے ہیں یانہیں۔دیگر اہداف کی طرح بہت سے لوگ زیادہ سے زیادہ مطالعہ کرنے کا بھی ہدف بناتے ہیں اور یہ ایک سچائی ہے کہ ایک بہترین کتاب بڑی حد تک اطمینان بخش ہوسکتی ہے،وہ آپ کو آپ کی روزمرہ پہنچ سے بہت دور کی باتیں اور چیزیں سکھاسکتی ہے،آپ کے سامنے ماضی قریب یا بعید کی ایسی شخصیات کو لاکھڑا کرسکتی ہے،جنھیں آپ اپنے پاس، اپنے قریب محسوس کریں گے۔
سب سے پہلے ہمیں یہ اچھی طرح سمجھناچاہیے کہ اگرآپ کے پاس کوئی اچھی کتاب (جوآپ کو بھی اچھی لگتی ہو)دستیاب ہے، تواسے پڑھنے کا عمل نہایت ہی لطف انگیزاور مزے دار ہوتاہے؛لیکن اگر آپ کوئی بیکارسی،بورنگ یا بہت مشکل کتاب لے کر بیٹھے ہیں،تواس کا مطلب یہ ہے کہ آپ بس ایک معمول پورا کررہے ہیں۔اگر لگاتار کئی دن تک آپ کو اسی قسم کی صورتِ حال کا سامنا رہتا ہے،توبہتر یہ ہے کہ آپ کتاب بینی کا چکر چھوڑیں اور کسی ایسے کام میں لگیں،جو آپ واقعی کرنا چاہتے ہیں اورآپ کو اس کام سے محبت ہے۔اگر معاملہ اس کے برعکس ہے،تو پھر آپ اپنے اندر مطالعے کی عادت کوراسخ اور پختہ کرنے کے لیے درجِ ذیل طریقوں پر عمل کریں:
1-وقت متعین کریں:
آپ کے پاس روزانہ مختلف اوقات میں کم سے کم ایسے پانچ یا دس منٹ ہونے چاہئیں،جن میں آپ مطالعہ کرسکیں۔ آپ کو اس متعینہ وقت میں روزانہ ہر حال میں مطالعہ کرنا ہے۔مثال کے طورپر آپ اگر اکیلے کھانا کھارہے ہوں،توناشتے، دن کے کھانے یا رات کے کھانے کے دوران مطالعے کا معمول بنالیں،اسی طرح اگر آپ سفر کے دوران یا سونے سے پہلے بھی  پڑھنے کا معمول بنالیں،تو اس طرح آپ کے پاس مطالعے کے لیے دن بھر میں چالیس یا پچاس منٹ ہوں گے۔اس طرح ایک بہترین شروعات ہوسکتی ہے،پھر روز بروز خود ہی اس میں تیزی بھی آتی جائے گی،مگر آپ اس سے بھی زیادہ کرسکتے ہیں۔
2-ہمیشہ اپنے ساتھ ایک کتاب رکھیں:
آپ جہاں بھی جائیں،اپنے ساتھ ایک کتاب ضرور رکھیں۔میں جب بھی گھر سے نکلتاہوں،تو یہ اچھی طرح چیک کرتاہوں کہ میرے پاس میرا ڈرائیونگ لائسنس، چابی اور کم سے کم ایک کتاب ہے یانہیں۔کارمیں بھی کتاب میرے ساتھ رہتی ہے،آفس میں بھی،کسی سے ملنے جاؤں توبھی؛بلکہ جہاں بھی جاتاہوں تو کتاب ضرور ساتھ لے جاتا ہوں،الایہ کہ ایسی جگہ جاؤں،جہاں کتاب پڑھنا قطعی مشکل ہوتا ہے۔اگر آپ کہیں گئے اور وہاں کسی کا انتظار کرنا پڑرہاہے،تو آپ کے پاس وقت ہے،اتنے وقت میں آپ کتاب نکالیں اور پڑھنا شروع کردیں،یہ انتظار کے لمحات گزارنے کا سب سے بہتر طریقہ ہے۔ 
3-کتابوں کی ایک فہرست بنالیں:
آپ جن کتابوں کو پڑھنا چاہتے ہیں،ان کی ایک فہرست بنالیں۔اس فہرست کو آپ کسی میگزین،ڈائری، موبائل، ٹیبلیٹ یا لیپ ٹاپ وغیرہ کے ہوم پیج پر رکھ سکتے ہیں۔پھر جب بھی آپ کو کسی اچھی کتاب کے بارے میں پتا لگے،تو اس کانام بھی اپنی فہرست میں شامل کرلیجیے،فہرست رکنی نہیں چاہیے،جب اس میں سے کوئی کتاب پڑھ لیں،تو اسے نشان زد کردیں۔
4-ٹکنالوجی کا استعمال:
اپنی کتابوں کی فہرست کے لیے جی میل کا استعمال کریں اور جب بھی کسی اچھی کتاب کے بارے میں سنیں،تو اس کا ایڈریس میل کردیں۔اب آپ کا ای میل ہی آپ کی ریڈنگ لسٹ ہوگا۔جب آپ ان میں سے کوئی کتاب پڑھ لیں،تو اسے Done کردیں، اگر آپ چاہیں تو متعلقہ کتاب کے تعلق سے اپنا تبصرہ بھی اسی میسج کو رپلائے کرسکتے ہیں، اس طرح آپ کا  Gmail accountآپ کا مطالعہ رجسٹر بھی ہوجائے گا۔
5-پرسکون جگہ تلاش کریں:
گھر میں کوئی ایسی جگہ تلاش کریں،جہاں آپ اطمینان کے ساتھ کرسی پر بیٹھ کربغیر کسی کی دخل اندازی کے کتاب کا مطالعہ کرسکیں۔عام حالات میں لیٹ کر نہیں پڑھنا چاہیے،الایہ کہ آپ سونے جارہے ہوں۔آپ کے آس پاس ٹی وی یا کمپیوٹر نہ ہو کہ آپ کی توجہ بٹ جائے، گانے کی آواز، گھر کے لوگوں یارفقاے کمرہ کا شوروشغب بھی نہ ہو۔اگر آپ کو ایسی جگہ میسر نہ ہو،تو پڑھنے کے لیے ایسی جگہ بنانے کی تدبیر کیجیے۔
6-ٹی وی/انٹرنیٹ کا استعمال کم کریں:
اگر آپ واقعی زیادہ مطالعہ کرنا چاہتے ہیں،تو ٹی وی اور انٹرنیٹ کا استعمال کم کردیجیے،یہ بہت سے لوگوں کے لیے مشکل ہوسکتا ہے،مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ ہر وہ منٹ جو آپ ٹی وی یا انٹر نیٹ سے بچائیں گے،وہ پڑھنے میں استعمال ہوسکتا اور اس طرح آپ کے مطالعے کا مجموعی دورانیہ کئی گھنٹے بڑھ سکتا ہے۔
7-بچے کے سامنے پڑھیں:
اگر آپ صاحبِ اولاد ہیں،تو آپ کو ضروربالضرور ان کے سامنے پڑھنا چاہیے۔اگر آپ بچوں میں ابھی سے پڑھنے کی عادت ڈالیں گے،تویقینی طورپر وہ بڑے ہوکر پڑھنے والے بنیں گے اور یہ عادت ان کی کامیاب زندگی کا سبب بنے گی۔بچوں سے متعلق کچھ اچھی کتابیں منتخب کریں اور انھیں پڑھ کر سنائیں۔اس طرح آپ خود اپنی مطالعے کی عادت کو بھی بہتر بنائیں گے اور اپنے بچوں کے ساتھ کچھ بہتر وقت بھی گزار سکیں گے۔
8-ایک رجسٹر رکھیں: 
کتابوں کی فہرست کی طرح آپ کے پاس ایک رجسٹر بھی ہونا چاہیے، جس میں صرف کتاب اورمصنف کانام نہ ہو؛بلکہ آپ نے کب مطالعہ شروع کیا اور کب ختم کیا،وہ تاریخ بھی اس رجسٹر میں درج کرنے کی کوشش کریں۔بہتر یہ بھی ہے کہ ہر کتاب کو پڑھنے کے بعد اس کے متعلق آپ کی کیارائے ہے،وہ بھی اس رجسٹر میں لکھیں۔اگر ایسا کرتے ہیں،تو چند ماہ بعد جب آپ اس رجسٹر کو دیکھیں گے اوراس میں مذکور مطالعہ کردہ کتابوں،مصنفوں کے نام اور ان کتابوں سے متعلق اپنے تاثرات دیکھیں گے،تو ذہنی و قلبی طورپرآپ کو ایک مخصوص قسم کی خوشی و مسرت حاصل ہوگی۔
9-مستعمل کتابوں کی دکان پر جائیں:
میری سب سے پسندیدہ وہ جگہ ہے،جہاں رعایت کے ساتھ کتابیں ملتی ہیں،میں اپنی پرانی کتابیں وہاں چھوڑ دیتاہوں اور وہاں سے بہت ہی کم قیمت پر بہت سی کتابیں حاصل کرلیتا ہوں۔میں ایک درجن یا اس سے زیادہ کتابوں پرعموماً صرف ایک ڈالر خرچ کرتا ہوں،اس طرح کم خرچ میں زیادہ کتابیں پڑھ لیتاہوں۔وہاں بعض دفعہ خیرات کی ہوئی نئی کتابیں بھی مل جاتی ہیں،پھر مزا آجاتاہے؛لہذا آپ کو مستعمل کتابوں کے سٹور کا چکر پابندی سے لگانا چاہیے۔
10-ہفتے میں کم سے کم ایک دن لائبریری جائیں:
مستعمل کتابوں کی دکان پرجانے سے بھی سستاسودایہ ہے کہ آپ ہفتے میں ایک دن لائبریری کا چکر لگالیں۔
11-مطالعے کو پرلطف بنائیں:
پڑھنے کے لیے آپ دن بھر کا اپنا سب سے پسندیدہ وقت مختص کریں، مطالعے کے دوران چائے یا کافی یا کوئی اور ہلکی پھلکی کھانے پینے کی چیز ساتھ رکھیں۔اطمینان سے کرسی پر بیٹھ کر پڑھیں۔طلوعِ آفتاب یا غروبِ آفتاب کے وقت یاBeach پربیٹھ کرپڑھنے کا الگ ہی مزاہے۔
12-بلاگ لکھیں:
آج کل کسی بھی کام کی عادت بنانے کا ایک بہترین طریقہ یہ ہے کہ اسے اپنے بلاگ پر درج کریں۔اگر آپ کے پاس بلاگ نہیں ہے،تو بنائیں،مفت میں بن جاتا ہے۔آپ کے جاننے والے یا فیملی میں کتابوں سے دلچسپی رکھنے والے لوگ بھی اسے دیکھیں گے اور آپ کو کتابوں کے سلسلے میں اچھا مشورہ بھی دے سکتے ہیں۔اس طرح آپ کے اندر اپنے مقصد کے تئیں احساسِ ذمے داری پیدا ہوجائے گا۔
13-ایک اعلیٰ  ہدف بنائیں:
اپنے دل میں سوچ لیں کہ سال بھر میں اتنی(مثلاً پچاس یا سو)کتابیں پڑھنی ہیں،پھر اس ٹارگیٹ تک پہنچنے کی تدبیر کریں۔البتہ یہ ضروری ہے کہ پڑھنے میں آپ کو ذہنی سکون مل رہاہو اور مزا آرہاہو، بوجھ یا روٹین سمجھ کر مطالعہ کرنا لاحاصل ہے۔
14-ایک دن یاایک گھنٹہ برائے مطالعہ مختص کریں:
اگر آپ شام کے وقت ٹی وی یا انٹرنیٹ کو آف کردیں،تو آپ کے پاس کم سے کم ایک گھنٹہ ایسا ضرور ہوگا،جس میں آپ؛بلکہ آپ کے تمام گھر والے ہر رات مطالعہ کرسکتے ہیں۔آپ ہفتے میں کسی ایک دن کوبھی عملی طورپر صرف پڑھنے کے لیے خاص کرسکتے ہیں،یہ نہایت ہی مزے دار عمل ہوگا۔
(مضمون نگارانگریزی کے معروف بلاگراورZen Habitsکے بانی ہیں)

Wednesday, March 8, 2023

مسلمان انسانیت کے لئےنفع بخش بنیں محمد امام الدین ندوی مدرسہ حفظ القرآن منجیا ویشالی

مسلمان انسانیت کے لئےنفع بخش بنیں 

محمد امام الدین ندوی 
مدرسہ حفظ القرآن منجیا ویشالی
انسان کی تخلیق نفع رسانی کے لیے کی گئی ہے۔ اس کی آمد کا ایک عظیم مقصد انسانوں کی خدمت ہے۔مخلوق سے ہمدردی ہے۔جو چیز نفع بخش ہوتی ہے کار آمد ہوتی ہے اس کی ضرورت  اور اس کا مطالبہ بڑھ جاتا ہے۔آدمی کا نفع بخش بننا اور اپنی نافعیت کو باقی رکھنا حقیقی وصف ہے اور یہی وصف اسے دیگر مخلوق سے ممتاز کرتا ہے۔
      اللہ تعالیٰ  کا فرمان ہے" اما الزبد فیذھب جفاء واماماینفع الناس فیمکث فی الارض" 
     جو چیزیں نفع بخش نہیں ہوتی ہیں وہ پانی کے دھار میں بہ جاتی ہیں اور جو اشیاء کار آمد ہوتی ہیں وہ زمین میں ٹھہرجاتی ہیں۔
      انسانوں سے بھری اس دنیا میں مومنوں کو پورےعالم کے لئےنافع بنایا گیا ہے۔اسی صفت نافعیت کی بنیاد پر اسے بہتری کی سند دی گئی ہے۔ 
"كنتم خير امة اخرجت للناس تامرون بالمعروف وتهون عن المنكر وتومنون بالله"
    تم بہترین امت ہو لوگوں کے نفع رسانی کے لئے برپا کی گئ ہو ۔تم لوگوں کو بھلائ کاحکم کرتی ہو انہیں برائی سے روکتی ہو اور اللہ واحد پر ایمان رکھتی ہو۔
     آج مسلمانوں کی حالت عجب سی ہوگئی ہے۔اس میں "خیر "کی بجائے "شر" کا پہلو غالب نظر آتا ہے۔مفید کی بجائے وہ غیر مفید بن گیا ہے۔اور جوچیز غیر مفید ہوتی ہے اسے لوگ کچڑے کے ڈھیر میں ڈال دیتے ہیں اسے ہاتھ تک نہیں لگاتے ہیں۔اسے گھناؤنی 
نظر وں سے دیکھتے ہیں۔اسے اپنے قریب پھٹکنے نہیں دیتے ہیں۔ماضی میں ہم دیگر قوموں کی ضرورت تھے۔ہیرے جواہرات سے کہیں زیادہ ہماری قدرو قیمت تھی۔لوگ عزت کی نگاہ سے دیکھتے تھے۔اور کہتے تھے کہ یہ مسلمان ہے۔اسی سے نفع کی امید ہے۔یہ لوگ غیر ضرر  ہیں۔اس لئےلوگ اپنے مسائل حل کراتے تھے لوگ بہ خوبی جانتے تھے کہ یہی انصاف پسند ہیں۔معمولی اور غیر معمولی مسئلے میں انہیں سےرہنمائی حاصل کرتے تھے کیونکہ لوگ جانتے تھے کہ سچا رہبر یہی ہے۔اپنی ہر طرح کی امانتوں کا امین انہیں تسلیم کئے ہوتھے کیونکہ دغابازی اور دھوکہ دھڑی،غبن،کی صفت ان میں نہیں تھی۔
     دنیا ان سے مامون اور دنیا والے اپنے کو محفوظ سمجھتے تھے کہ نبی کا پیغام ہی ہے "المسلم من سلم المسلمون من لسانه ويده" 
    مسلمان وہ ہے جس کےہاتھ اور زبان سے لوگ محفوظ رہیں۔
     جب تک مسلمان اپنے اعلی اخلاق،پاکیزہ کردار،نرم گفتار،بے لوث جذبہ ہمدردی ،خدمت خلق کا جذبہ،بلا تفریق غریبوں،محتاجوں،درد کے ماروں،یتیموں،بیواؤں،کی دادرسی جیسے عظیم صفت سے متصف رہے،وہ لوگوں کی ضرورت سمجھے گئے اور لوگوں نے پلکوں پر بٹھایا۔جب سے ان میں بد اخلاقی،بد سلوکی،بد عہدی،منافقانہ صفات،چال بازی،دھوکہ دھڑی،ذاتی مفاد،خودغرضی،رشوت خوری،بدکلامی،جیسے صفات خبیثہ جنم لئے لوگ انہیں غلاظت سمجھ کر اسے اپنے سے الگ کردیا۔اب وہ بےقیمت بن گئے ان کا خریدار کوئی نہیں رہا۔
     ہم آدم کی اولاد "  آدمی" ہیں ۔آدمی میں صفت آدمیت ہی اہم اور اعلی وصف ہے۔اور یہی صفت آدمی کو قیمتی بناتاہے۔یہ صفت مسلمانوں میں سب سے زیادہ ہونی چاہئے تاکہ دنیا میں پھیلے بے شمار آدم زادوں کے لئے  یہ مفید بن سکیں۔
    مسلمان قانون سماوی کے پاسباں ہیں۔یہ قانون سب کے ساتھ ایثارو ہمدردی کا حکم دیتا ہے۔ظلم و زیادتی سے روکتا ہے۔خود نہ کھا کر غیروں کے کھلانے کو کار ثواب بتاتا ہے۔پڑوسی چاہے جیساہواس کے ساتھ حسن سلوک پر آمادہ کرتا ہے۔مسلمانوں کو قانون ربانی سے آراستہ ہوکر ابن آدم کی خدمت کوترجیح دینےکی تعلیم دیتا ہے۔
مسلمان اپنی نافعیت کو ثابت کردے تو آج بھی لوگ اسے پلکوں پر بٹھانے کے لئے تیار ہیں۔ہم نافع بنیں ضار نہیں۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا" خیر الناس من ینفع الناس" لوگوں میں بہتر وہ ہے جو دوسروں کے لئے نافع ہو

    خود غرضی کی اس دنیا میں آج مسلمان بھی مطلب پرست اور خودغرض بنا گھوم رہا ہے۔اس خود غرضانہ صفت نے دنیا میں بڑی تباہی برپا کی ہے۔فسادو بگاڑ اپنا پنجہ ہر سو جمائے ہوا ہے۔اخلاقی بگاڑتیزی سے جنم لے رہا ہے۔سماجی راہ ورسم اور بندھن ٹوٹ گیا ہے۔خاندانی شیرازہ درہم برہم ہونے لگا ہے۔دوستوں کی دوستی مکڑی کے جالے سی ہے۔دلوں میں نفرتوں کی آگ جل رہی ہے۔دماغ میں خبث بھر چکا ہے۔رشتے،ناطے کے خون سفید ہو رہے ہیں ۔لوگ کب ،کہاں، کیسے،کسی کو استعمال کرلے اس کا پتہ نہیں ہے۔دشمنی دوستی کے خوب صورت دروازے سے داخل ہورہی ہے۔اپنے پرائے بن گئےہیں ۔خود غرضی نے مسلمانوں کے تانے بانے کو ادھیڑ دیا ہے۔اور مسلمان بے قیمت ہو گئے ہیں۔ان کی نافعیت ختم ہوگئی ہے۔
         مسلمانوں کی نافعیت ختم ہونے سے صرف ان کا ذاتی نقصان نہیں ہواہے بلکہ عالمی پیمانے پر سب کانقصان ہوا ہے۔ان کا کام ہی تھا اچھائی کو فروغ دینا اور بدی کے دروازے کومکمل بند کرنا۔امن قائم کرنا اور بدامنی کا قلع قمع کرنا۔خیر کی شمع روشن کرنا اوربدی کی تیزو تند ہواؤں کو روکنا۔علم کا شمع ہر فردبشر کے دلوں میں جلانااور جہل کی گھٹا کو دور کرنا۔لیکن معاملہ برعکس ہونے کے نتیجے میں اور قانون سماوی سے پہلوتہی کرنے کی وجہ سے مسلمان بے قیمت ہوگئے۔اس کا خسارہ پورے عالم کو ہوا۔اور سارا عالم ایک کشتی کا میدان بن گیا ہے۔بڑی مچھلی چھوٹی مچھلی کو نگل رہی ہے۔طاقتور کمزور کو اپنا لقمہ تر سمجھ رہا ہے۔ظالم کھلی فضاؤں میں گھوم رہاہے۔عدالت ان کا پشت پناہ ہے۔مظلوم زنداں کی سلاخوں کے پیچھے محبوس ہے۔غلام آقا کا رہین ہے۔آن کی آن میں بلاوجہ میزائل برسائے جارہے ہیں ۔انسانوں کی آبادی شہر خموشا بن جاتی ہے۔انسانیت شرمشارہے ۔حیوانیت کا کھلا راج ہے۔درندے بھی سوچنے پر مجبور ہیں کہ ہماری صفت آدم زادوں میں کیسے منتقل ہوگئی ہے۔کتے صوفے پر سورہے ہیں ۔عمدہ اور اعلی محلوں میں جی رہے ہیں عمدہ سواریوں میں سیر کررہے ہیں۔ان کے کھلانے پلانے،بول وبراز،نہلانے دھلانے پر خدام متعین ہیں۔انسان فٹ پاتھ پر فاقے کے عالم میں جی رہا ہے۔کتے کے حصے میں تازہ اور نفیس کھانا ہے وہیں گھر کے خادموں کے لئے باسی،اور سڑے گلے،موٹے جھوٹے،کھانے کا نہ سہی انتظام ہے نہ ہی مناسب وقت ہے۔
آج مسلمانوں کودنیا کے سامنےاپنی نافعیت ثابت کرنے ضرورت ہے۔جن قوموں نے اپنی نافعیت کو اخلاقی،تہذیبی تمدنی،لسانی،معاملاتی،فکری،علمی ادبی،سیاسی،سماجی،سائنسی،ٹکنالوجی،ہراعتبار سے اپنی قیمت ثابت کیا ہے آج نہ چاہتے ہوئے بھی دنیا کو ان کی ضرورت محسوس ہو رہی ہے۔اور ان کا استقبال کیا جارہا ہے۔اس لئے بہ حیثیت خیر امت مسلمان اپنی نافعیت کو سمجھیں۔اور دنیا کو امن کا گہوارہ بنائیں

Saturday, September 10, 2022

کامیاب استاذ بننے کےلیے بیس رہنما اصول – مولانا یوسف خان

کامیاب استاذ بننے کےلیے بیس رہنما اصول – مولانا یوسف خان

بہترین استاذ وہ ہے جو بیک وقت نفسیات، اخلاقیات اور روحانیت میں مہارت رکھتا ہو۔ ان میں سے ہر مہارت کی خصوصیات دوسری مہارت سےگہرا تعلق رکھتی ہیں۔ اس لیے ہم ان تینوں مہارتوں کے لیے کچھ مشترکہ اصول ذکر کریں گے۔

1۔ اخلاص
اچھا استاذ اپنے پیشے کے ساتھ مخلص ہوتا ہے۔ وہ اپنے پیشے کے ساتھ جس قدر بےلوث ہوگا، اس کی دلچسپی اسی قدر بڑھتی جائے گی اور اس کی راہ میں حائل رکاوٹیں اتنی ہی کم ہوتی چلی جائیں گی۔ اخلاص وہ جوہر ہے جس سے عمل میں لذت پیدا ہوجاتی ہے۔

2۔ تقوی
علم اور تقوی کا باہم گہرا تعلق ہے، اسی وجہ سے قرآن پاک میں خشیت الہی کا مدار ”علم“ کو قرار دیا گیا ہے۔ نیز یہ بات ہم پر مخفی نہیں کہ استاذ کے دل میں جتنی خدا خوفی ہوتی ہے، اس کی زبان میں اسی قدر تاثیر ہوتی ہے۔

3۔ بہترین عملی کردار
شاگرد اپنے استاذ کو بہت باریک بینی سے دیکھتا ہے، یوں استاذ کی چال ڈھال، عادات واطوار اور اخلاق و کردار لاشعوری طور پر بھی اس میں اترنے لگتے ہیں۔ شاگرد کی دقتِ نظری کیسی ہوتی ہے اس ضمن میں، میں ایک واقعہ آپ کے سامنے رکھوں گا۔ ہوا یوں کہ ایک دن میری گھڑی خراب تھی تو میں گھر والوں کی گھڑی پہن کر کلاس میں چلا گیا، دورانِ درس میری پوری کوشش رہی کہ گھڑی کپڑوں میں چھپی رہے، دن گزر گیا، بات آئی گئی ہوگئی، کچھ مدت کے بعد ایک طالب علم سے گفتگو ہو رہی تھی، وہ درسگاہ میں میری کسی بات کا حوالہ دے رہا تھا مگر مجھے یاد نہیں آرہا تھا، میں نے مزید استفسار کیا تو اس نے کہا: ”استاد جی جس دن آپ لیڈیز گھڑی پہن کر آئے تھے۔“ مجھے سخت حیرت ہوئی کہ طلبہ کتنی گہرائی سے استاد کو پڑھتے ہیں، بلکہ پڑھنے کے بعد اسے یاد رکھتے ہیں اور دوسروں سے اس کا تذکرہ کرتے ہیں۔

4۔ تلاوت کا معمول
تلاوت کا معمول روزانہ کی بنیاد پر ہونا چاہیے۔ تلاوت کم از کم اتنی اونچی آواز سے کرنی چاہیے کہ اسے خود سن سکے، ان شاء اللہ اس عمل کی تاثیر وہ خود محسوس کرے گا۔

5۔ذکر اللہ
بہتر ہوگا کہ تلاوت کے علاوہ ذکر الہی کے لیے کچھ وقت الگ سے نکالے۔ قلب کے احیا (دل کو زندہ رکھنے) کے لیے یہ عمل نہایت موثر ہے۔

6۔ شکر
اچھا مدرس وہ ہوتا ہے جس کی طبیعت میں شکر کا وصف موجود ہو، شکر سے مراد اس کی تینوں قسمیں ہیں، یعنی قلبی، لسانی اور عملی۔ قلبی شکر کا مطلب ہے کہ دل میں منعم (محسن) کا احترام اور اس سے محبت ہو۔ جس ادارے سے اس کا روزگار وابستہ ہے وہاں کے منتظمین کا قلبی شکر بےحد ضروری ہے۔ جو مدرس اپنے طلبہ کے سامنے اپنے منعم کی برائیاں بیان کرتا ہے اور اس پر تنقید کرتا ہے، وہ ناکام ترین مدرس ہے۔ شکرِ لسانی دو طریقوں سے ہوتا ہے، ایک وہ جس کی سورہ ضحی میں تعلیم دی گئی ہے۔واما بنعمۃ ربک فحدث

یعنی اپنے رب کی نعمتوں کو بیان کیجیے، جسے تحدیث بالنعمت کہا جاتا ہے۔ دوسرا طریقہ یہ ہے کہ اپنے محسن کا شکر زبان سے بھی ادا کرے جسے اللہ تعالی نے فرمایا۔ان اشکر لی ولوالدیک 

میرا شکر ادا کرو اور اپنے والدین کا بھی، اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے۔ من لم یشکر الناس لم یشکر اللہ

جس نے لوگوں کا شکریہ ادا نہ کیا اس نے اللہ کا شکر بھی ادا نہیں کیا۔ عملی شکر سے مراد ہے کہ اللہ کی دی ہوئی نعمتوں کو ڈھنگ سے استعمال کرے، جو استاذ نعمتوں کا درست استعمال نہیں کرتا وہ ناشکرا اور ناکام مدرس ہے۔

7۔ حیا
استاذ کے لیے حیا ایک ناگزیر وصف ہے۔ حیا کا مطلب ہے۔انقباض النفس عن القبیح 

یعنی اللہ کی طرف سے ناپسندیدہ قرار دی گئی باتوں /چیزوں سےاس کا جی تنگ پڑے، ایسی باتوں کی طرف جانا اس کے لیے گرانی کا باعث ہو۔ استاد میں حیا ہوگی تو آگے بھی یہ وصف ضرور متعدی ہوگا، مگر افسوس ہے کہ موبائل نے ہم اساتذہ کی حیا اگر ختم نہیں کی تو کم ضرور کردی ہے۔

8۔ ذمہ داری کا احساس
یہ بات مشاہدے اور تجرے سے ثابت ہے کہ طلبہ کا غیر ذمہ دارانہ رویے کا ایک بڑا باعث استاد کا غیر ذمہ دارانہ مزاج ہے۔ کامیاب مدرس بننے کے لیے اپنے اندر ذمہ داری کا احساس جگانے کی ضرورت ہے۔

9۔اچھی صحبت
اچھا استاذ وہ ہوتا ہے جس کا مزاج اچھا ہو، اس کی بیٹھک اچھے لوگوں کے ساتھ ہو، اس کی پہچان اچھی سوسائٹی ہو۔ حدیث کے مطابق اسے عطار کے مانند ہونا چاہیے جس کے پاس سے گزرنے والا کم ازکم معطر ضرور ہو سکے، نہ کہ لوہار کی طرح جس کی صحبت اختیار کرنے والے کو بھٹی کی تپش بھی گوارا کرنا پڑتی ہے۔ برے لوگوں سے خیرخواہی اور اصلاح کا تعلق تو رکھے مگر دوستی کا نہیں۔

10۔ تحمل اور برداشت
تعلیم اور تزکیہ کے میدان میں صبر وتحمل کی اہمیت دوچند ہوجاتی ہے۔ انبیا کو اللہ نے بار بار اس کی تلقین فرمائی ہے۔ استاذ میں جس قدر یہ خوبی ہوگی وہ اتنا ہی کامیاب مدرس ثابت ہوگا۔

11۔ زہد اور بےرغبتی
ایک اچھا استاذ وہ ہوتا ہے جس میں کمال درجے کا زہ

د ہو، شاگرد کے مال پر اگر استاذ کی رال ٹپک رہی ہو تو شاگرد کی نظر میں ایسا استاذ ٹکے کا نہیں رہتا۔ حدیث میں جو ارشاد ہے۔ازھد في الدنيا يحبك اللہ و ازھد فيما عند الناس يحبك الناس 

دنیا سے بے رغبتی اختیار کرو اللہ تم سے محبت کرے گااور لوگوں کےمال ومتاع سے نظریں پھیر لو لوگ تمہارے دیوانے بن جائیں گے، اس میں الناس کی جگہ طلبہ کو رکھ کر عملی مشاہدہ کیجیے، پھر ادراک ہوگا کہ کتنی بڑی حقیقت بیان کی گئی ہے۔

12۔ عفو و درگزر اور وسعتِ قلبی
ہر معمولی بات پر پکڑ کرنے والا کبھی کامیاب مدرس نہیں بن سکتا، استاذ کو اپنے اندر وسعتِ قلبی پیدا کرنی چاہیے۔ اللہ کی بھی یہی سنت ہے۔او یوبقھن بما کسبوا ویعف عن کثیر

13۔ خدمت خلق کا جذبہ
افسوس ہے کہ اس اہم ترین عبادت کو ہم نے شعبوں میں تقسیم کردیا ہے، روزمرہ زندگی میں بطور عبادت اس اصول کا اطلاق ہمارے ہاں نادر ہے۔ تبلیغ میں جانے والے احباب سفرِ دعوت میں ہر طرح کی خدمت اکرامِ مسلم سمجھ کر کرتے ہیں مگر گھر پہنچتے ہی یہ خدمت انہیں ذلت محسوس ہوتی ہے۔ استاذ اگر اپنے طلبہ کے سامنے خدمتِ خلق کا عملی نمونہ پیش کرے گا تو ان کے دل میں عظمت بڑھے گی۔ اس سلسلے میں اپنا ایک واقعہ بیان کروں گا کہ ضعف اور نقاہت کی وجہ سے چونکہ طبیعت مستعد نہیں رہی، ایک مرتبہ میں نے کھانا تناول کرنے کے بعد بچوں سے کہا کہ بیٹا دسترخوان اٹھا لو، اتنے میں کیا سنتا ہوں کہ میرا چھوٹا نواسا دروازے سے نکلتے ہوئے کہہ رہا ہے کہ خود تو بڑے بنے بیٹھے ہیں اور ہمیں کام پر لگایا ہواہے. ایسے موقع پر اگر بچوں کو ڈانٹ دیا جائے تو زیادہ سے زیادہ یہ فرق پڑے گا کہ وہ یہی بات آپ کے سامنے کہنے سے باز رہیں گے مگر ان کے ذہنوں کو آپ صرف اور صرف اپنے کردار سے کھرچ سکتے ہیں۔

14۔ قوت اور امانت
اچھا پیشہ ور وہ ہوتا ہےجس میں قوت اور امانت کا وصف بخوبی موجود ہو۔ قرآن پاک میں حضرت شعیب علیہ السلا م کی بیٹیوں کا تبصرہ ذہنوں سے اوجھل نہیں رہنا چاہیے،ان خیر من استاجرت القوی الامین

بہترین اجیر وہ ہے جو قوی بھی ہو امین بھی. استاد کی قوت اس کا وسعتِ مطالعہ، علمی رسوخ اور اپنے فن/مضمون پر دسترس ہے۔ نالائق سے نالائق طالب علم بھی اپنے استاذ کی علمی قابلیت کو اچھی طرح بھانپ لیتا ہے۔ استاذ کی امانت کا مدار اس بات پر ہے کہ وہ علم کو آگے منتقل کرنے میں کس قدر محتاط اور سخی ہے۔

15۔رجائیت (پراُمید ہو)
اچھا استاذ کبھی مایوس نہیں ہوتا، اس کی مثال اس پھل بیچنے والے کی سی ہے جو اپنے گاہک کے سامنے پھل کی ایسی تعریف کرے کہ وہ تھوڑے کے بجائے زیادہ لینے پر مجبور ہوجائے اور اگر خدانخواستہ وہ اس طرح کے جملے دہرانے لگے کہ جناب بس کیلے کا تو موسم ہی نہیں رہا، اس کا گاہک بھی آج کل ڈھونڈے نہیں ملتا، یہ دیکھیے پڑے پڑے کیلے کالے ہونے لگے ہیں، شکر ہے کوئی تو آیا، یہ سن کر کوئی بےوقوف ہی اس سے سودا خریدے گا۔ افسوس کے ساتھ یہ کہنا پڑتا ہے کہ ہم جس علم کو ”بیچ“ رہے ہیں اس کی قدر خود ہمارے دل میں بھی نہیں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ استادکے ذریعے شاگروں میں مایوسی منتقل ہورہی ہے۔

16۔ اخلاقی جرات
ایک اچھا استاذ اپنے اندر اخلاقی جرات رکھتا ہے۔ یاد رہے کہ اخلاقی جرات کا تعلق اخلاق سے ہے، آپ کے اندر جتنی بھی بری باتیں ہوں جب تک ان سے جان نہیں چھڑا لیتے اخلاقی جرات کا فقدان رہے گا۔

17۔ قول وفعل میں مطابقت
جس استاذ کے قول وفعل میں تضاد ہو، وہ ایک بدنام اور ناکام مدرس ہے۔

18۔وضع قطع
استاذ کو چاہیے کہ اپنے باطن کی طرح ظاہر کو بھی اللہ کے رنگ میں رنگ دے۔ شریعت کے مطابق وضع قطع نہ صرف سنتِ نبوی کی اتباع ہے بلکہ اس سےآپ باوقار تشخص کی تعمیر کرسکیں گے۔

19۔للّٰہیت
دینی خدمات محض تنخواہ کے لئے سرانجام نہ دے۔اس سے چاشنی اور لذت جاتی رہتی ہے۔اپنے کسی قول وفعل کے ذریعے شاگردوں کے سامنے بھی ایسا تاثر دینے سے باز رہے۔

20۔شاگردوں کے حق میں دعا
اپنے شاگردوں کے لیے ہمیشہ دعا گو رہے۔ یہ عمل اجر اور اخلاص بڑھانے کا بہترین ذریعہ ہے۔ استاذ کو اپنے شاگرد پر ہاتھ اٹھانے کا اس وقت تک کوئی حق نہیں جب تک اس کے لیےتہجد میں چالیس راتیں اللہ سے نہ مانگ لے.

(مولانا یوسف خان استاذ جامعہ اشرفیہ، لاہور کا الشریعہ اکادمی گوجرانوالہ میں خطاب کا خلاصہ ان کے شاگرد امیر حمزہ نے تیار کیا)

Sunday, August 7, 2022

بند آنکھ سے دیکھ تماشا دنیا کا

محمد طاہر ندوی
امام و خطیب مسجد بلال ہلدی پوکھر جھارکھنڈ

جدھر دیکھئے تماشا ہی تماشا ہے۔ کہیں سرکار بنانے کو لے کر تماشا ہے تو کہیں سرکار گرانے کو لے کر تماشا ہے۔ کہیں ای ڈی کا خوف پیدا کرکے تماشا چل رہا ہے تو کہیں سی بی آئی کے ذریعے تماشا دکھایا جا رہا ہے۔ ٹی وی چینلوں کو دیکھئے تو معلوم ہوگا کہ آپ تماشائی فلم دیکھ رہے ہیں اور باہر نکل کر سماج کو دیکھئے تو معلوم ہوگا کہ وہی فلم اور فلم کے اداکار باہر تماشا دکھا رہے ہیں۔ یہ تماشے آپ کو بھارت کی سرزمین میں ہی دیکھنے کو ملیں گے کیوں کہ اس سر زمین کے علاوہ ایسے تماشے دنیا میں ناپید ہیں ۔ 
کچھ دیر ٹھہر اور ذرا دیکھ تماشا
ناپید ہیں یہ رونقیں اس خاک سے باہر 
تماشوں کی شروعات سیاسی گلیاروں سے کرتے ہیں جہاں رنگ برنگ کے تماشے آپ کو دیکھنے کو ملیں گے۔ بی جے پی کے قومی صدر جے پی نڈا ٹویٹ کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ " اپوزیشن صاف اور بھارتی جنتا پارٹی کا راج ہی ہمارا مقصد ہے " اور آج ہمارے ملک کے جو سیاسی حالات ہیں اسے دیکھ کر لگتا بھی یہی ہے کہ موجودہ حکومت اپنے مخالفین کا بالکل صفایا کر دینا چاہتی ہے۔ اب آپ دیکھ لیجئے کہ پنجاب کے اندر سے اکالی دل کا خاتمہ ہو گیا۔ مہاراشٹر کے اندر شیو سینا کے دو ٹکڑے ہو گئے ۔ ادھو ٹھاکرے جو بالا صاحب ٹھاکرے کے بیٹے ہیں ، بی جے پی نے پارٹی کی کمان ان کے ہاتھ سے لے کر ایکناتھ شنڈے کو دے دی اور شیو سینا کے ایم پیز اور ایم ایل ایز ای ڈی کے ڈر سے کبھی اس پارٹی تو کبھی اس پارٹی کا چکر لگا رہے ہیں۔ مدھے پردیش کی سیاسی گلیاروں میں بھی ہلچل مچی ہوئی ہے۔ بی جے پی کے شیو راج سنگھ چوہان یہ کہہ رہے ہیں کہ " مدھے پردیش کی سرکار کو گرانا ہی تھا کیوں کہ یہ ہمارے پردھان منتری نریندر مودی کی ناک کا مسئلہ تھا اور ہم ان کی ناک کو کیسے کٹنے دیتے"۔ اب پردھان سیوک کی ناک اتنی اہمیت کی حامل ہو گئی ہے کہ اس کی خاطر سرکار بنائی اور گرائی جا سکتی ہے۔ بہار کی حالت بھی مردے پر فاتحہ خوانی سے کچھ کم نہیں ہے۔ بہار میں جنتا دل یونائیٹڈ پر لگاتار حملے ہو رہے ہیں تاکہ ان کا وجود ختم ہو جائے۔ مغربی بنگال میں ممتا بنرجی کی سرکار ہے لیکن ایک کے بعد ایک ان پر بھی حملے ہو رہے ہیں۔ ممتا بنرجی کی سرکار کو گرانے کی سازشیں رچی جا رہی ہیں۔ متھن چکرورتی جیسے ضمیر فروش لوگ یہ کہہ رہے ہیں کہ ٹی ایم سی کے 38 ایم ایل ایز ہمارے رابطے میں ہیں مطلب بالکل صاف ہے کہ خطرے کی گھنٹی ممتا بنرجی کے لئے کسی بھی وقت بج سکتی ہے۔ 
جھارکھنڈ کی سیاسی گلیاروں میں بھی ہلچل مچی ہوئی ہے۔ پوجا سنگھل کے ذریعے وزیر اعلیٰ ہیمنت سورین پر دباؤ ڈالا جا رہا ہے۔ گڑے مردے نکالے جا رہے ہیں تاکہ کوئی سراغ ہاتھ لگ جائے۔ بی جے پی کے ٹاپ لیڈر جھارکھنڈ میں " آپریشن لوٹس " کا کھیل کھیل رہے ہیں۔ جس طرح مہاراشٹر میں آپریشن لوٹس کا جال بچھا کر شیو سینا کے وزیروں اور مشیروں کو پھنسایا اسی طرح مغربی بنگال اور جھارکھنڈ میں بھی یہ جال بچھایا جا رہا ہے۔ بی جے پی ہر ایسی آواز کو دبا دینا چاہتی ہے جو اس کے خلاف اٹھے اور اس کی تازہ مثال شیو سینا کے قد آور نیتا سنجے راوت کی صورت ہمیں دیکھنے کو ملی۔ سنجے راوت بھاجپا مخالف بیان دینے میں سب سے آگے رہتے تھے اس لئے اس کو پاترا چال بھومی گھوٹالے میں جیل کا راستہ دکھا دیا گیا۔ اسی طرح کانگریس کی صدر سونیا گاندھی کو ای ڈی نے نیشنل ہیرالڈ کیس میں حراست میں رکھا۔ مہنگائی کے خلاف احتجاج کرنے پر راہل گاندھی کو دہلی پولیس اٹھا کر لے جاتی ہے۔ ایک کچرا اٹھانے والے کو صرف اس لئے اپنی پانچ ہزاری نوکری سے ہاتھ دھونا پڑتا ہے کیوں کہ اس کے کچرے میں پردھان منتری اور یوگی جی کی تصویر موجود تھی ۔ ایک پرنٹنگ پریس کے مالک سمیت پانچ لوگوں کو صرف اس لئے گرفتار کیا جاتا ہے کہ انہوں نے بائے بائے مودی کی ہورڈنگ بورڈ چسپاں کیا تھا۔ پارلیمنٹ سے سانسدوں کی برخاستگی بھی بڑے زوروں پر ہے ۔ مودی کے دور حکومت میں اب تک 139 سانسد معطل کئے جا چکے ہیں۔ دراصل یہ حکومت ہر ایسی چیز کو کچل دینا چاہتی ہے جو اس کے اور ہندو راشٹر قائم کرنے کے درمیان حائل ہو۔ اس ملک میں یہ تماشا بھی پہلی بار دیکھنے کو ملا کہ پارلیمنٹ کے معطل سانسدوں نے پارلیمنٹ کے باہر مہاتما گاندھی کی مورتی کے سامنے رات بھر احتجاج کرتے ہوئے جمہوریت کے منہ پر زور دار تھپڑ رسید کر دیا ہے۔ ایک طرف ایس ایس سی جی ڈی کے وہ طلباء جنہوں نے امتحان پاس کیا ، میڈیکل پاس کیا لیکن پھر بھی بھرتی نہیں ملتی ہے وہ ناگپور سے دلی پیدل مارچ کرتے ہیں اکسٹھ دنوں سے وہ پیدل چل رہے ہیں، ناگپور سے لے کر دلی تک ، جنتر منتر سے لے نتن گڈکری کے گھر کے باہر تک ہر جگہ احتجاج کرتے ہیں اور سرکار ایسے نوجوانوں کے بارے کہتی ہے ہمارے پاس کوئی ڈیٹا نہیں ہے ۔ 
دیش؛ مہنگائی ، بے روزگاری ، ناخواندگی کی لڑائی لڑ رہا ہے ، اپوزیشن جماعتیں اپنے وجود کے بقا کی لڑائی لڑ رہے ہیں اور بھارتی جنتا پارٹی کے لوگ اپنے پرچار کی لڑائی لڑ رہے ہیں۔ مہنگائی کو لے کر پورا ملک پریشانی کا سامنا کر رہا ہے لیکن وزیر خزانہ نرملا سیتا رمن یہ کہہ رہی ہیں کہ بھارت سب سے تیزی سے بڑھتی ہوئی معیشت بنا ہوا ہے۔ اگر معیشت بڑھ رہی ہے تو لوگوں کو معاش کیوں میسر نہیں ؟ بے روزگاری کیوں بڑھتی جا رہی ہے ؟ یہ سوال بھی پوچھنا چاہئے تھا لیکن سوال تو یہ ہے کہ بلی کی گردن پر رسی کون باندھے اور کسے اپنی عافیت محبوب نہیں۔ 

دھوکا ہے ، نمائش ہے ، تماشا ہے گزر جا 
یہ رونق بازار ، یہ دنیا ہے گزر جا

Tuesday, April 12, 2022

میں رمضان ہوں میرا احترام کرو



محمد امام الدین ندوی 
مدرسہ حفظ القرآن منجیا ویشالی 

میں رمضان ہوں۔اسلامی کیلینڈر کا
 نواں مہینہ ہوں۔میں خیرکثیر لیکر آیاہوں۔
میری آمد سے مسجدوں میں بہار آجاتی ہے۔ہر سو چہل پہل نظرآتی ہے ۔خردوکلاں سب خوشی سے پھولے نہیں سماتے ہیں۔میری آمد تراویح کو جنم دیتی ہے۔لوگ امام کی اقتداء میں مکمل قرآن سنتے ہیں۔میں رحمت،ومغفرت،اور جہنم سے خلاصی کا باعث ہوں۔میرے ابتدائی دس دن باعث رحمت ہیں۔اسے لوگ پہلا عشرہ کے نام سے یاد کرتے ہیں۔دوسرےدس دن باعث مغفرت ہیں۔اسے لوگ دوسرا عشرہ کہتے ہیں۔اور تیسرے دس دن جہنم سے چھٹکارے کےہیں۔اسےلوگ آخری عشرہ کہتے ہیں۔
    میں خیر کثیر لیکر آتا ہوں۔جو میرے سایہ میں ایک فرض نماز ادا کرتاہے اللہ اسے ستر(70)نمازوں کے برابر ثواب دیتا ہے۔جو ایک نفل ادا کرتا ہے اسے عام دنوں کے فرض کے برابر ثواب ملتا ہے۔میرا ہر پل قیمتی ہے۔عقل والے مجھے ضائع نہیں کرنا چاہتے ہیں۔ایک ایک پل کو غنیمت سمجھتے ہیں اور کام میں لاتے ہیں۔
  میرے آنے سے ایک اہم عبادت اور اسلام کے پانچ بنیادی ستونوں میں سے ایک اہم ستون روزہ کی ابتداء ہوتی ہے۔روزہ عبد ومعبود کا ذاتی معاملہ ہے۔ظاہری  اعضاء سے اس عبادت کا اظہار نہیں ہوتا ہے۔
بندہ ہی حقیقت سے واقف ہوتا ہے۔کون روزہ ہے اور کون نہیں اس کا پتہ لگانا ممکن نہیں ہے۔روزہ کا بدلہ اللہ خود دیتا ہے یا اللہ خود ہی بدلہ ہوجاتا ہے۔روزہ دار کے منہ کی بدبو اللہ کے نزدیک مشک سے افضل ہے۔روزہ دار جائز خواہشات کی تکمیل سے اپنے کو روکتا ہے۔روزہ نہ رکھنے والوں کے حق میں بڑی وعید آئی ہے۔روزہ دار کودخول جنت کے لئےخاص دروازہ ہے جس کانام باب الریان ہے۔افطار کے وقت روزہ دار کی دعاء قبول ہوتی ہے۔افطار کے وقت کاسماں بھی عجب ہوتا ہے۔یہ قابل دید وقابل رشک ہوتا ہے۔روزہ دار کے سامنے انواع و اقسام کی چیزیں دسترخوان کی زینت ہوتی ہیں پر روزہ دار اسے قبل از وقت ہاتھ بھی نہیں لگاتا ہے۔
       میرے آخری عشرہ میں اعتکاف جیسی عظیم نعمت ہے۔معتکف کے لئے بڑی خوش خبری ہے۔معتکف اللہ کے گھر اللہ کا مہمان ہوتاہے۔میرے اختتام پر وہ اپنے گھر لوٹتا ہے۔میں شب قدر کو بھی لاتا ہوں۔میرے آخری عشرے کی طاق راتیں( ۲۱،۲۳،۲۵،۲۷،۲۹،)شب قدر کی ہیں۔ان راتوں میں بیدار رہنا اور اللہ کی عبادت میں مصروف رہنا بڑے ثواب کا کام ہے۔اس ایک رات کی عبادت ہزار مہینوں کی رات سے افضل ہے۔
    مجھےلوگ غم خواری،صلہ رحمی،کا مہینہ بھی کہتےہیں۔اس لئے لوگوں کو اپنےاور اپنے بچوں کی طرف سےصدقہ فطر اداکرنے کا حکم دیاگیا ہے۔تاکہ غریبوں،محتاجوں،بیواؤں،یتیموں،
ضرورت مندوں،کی خوشی پھیکی نہ ہو۔ان کی عید بھی حقیقی عید بن جائے۔میرے آتے ہی اہل ثروت وتجارت اپنے مال کا حساب لگاتے ہیں اور زکوت ادا کرتے ہیں۔اس سے بھی ضرورت مندوں کی ضرورتیں پوری ہوتی ہیں۔
   میں از ابتداء تاانتہا خیر ہی خیر ہوں۔میرے قدرداں میرے آنے سے بہت خوش ہوتے ہیں اور میرے جانے سے مایوس واداس ہوجاتے ہیں۔میرے دامن شب میں سحری رکھی گئی ہے۔سحری نبی صلعم کی سنت ہے۔یہودیوں کی مخالفت ہے۔روزہ دار اس کا خاص خیال رکھتے ہیں۔سحری میں کچھ نہ کچھ ضرور کھاتے ہیں۔میری شام بہت انمول ہے۔اس میں افطار کا خاص مقام ہے۔افطار کرنا اور کرانا باعث برکت ہے۔دوسروں کو افطار کرانے کا بڑا ثواب ہے۔روزہ دار کے ثواب میں کمی نہیں ہوتی ہے۔اس لئے لوگوں کو اپنے پڑوسیوں کا خاص خیال رکھنا چاہئے۔ایسا  نہ ہو کہ بعض لوگوں کے دسترخوان انواع و اقسام کے کھانے پینے کی لذیذ چیزوں سے مزین ہوں اور بعد افطار بچے کھچے سامان کوڑے کے نذر ہو جائے اور بغل کاپڑوسی صرف پانی پر اکتفا کرے۔
   میں صبر کا مہینہ ہوں۔ہرطرح کا صبر مجھ میں شامل ہے۔کھانا ترک کرنا۔لڑائی جھگڑا بند کرنا۔نفسانی خواہشات قربان کرنا۔زبان کو چغلی،غیبت،جھوٹ،گالی گلوج،لایعنی باتوں،سے باز رکھنا۔
    میں نیکیوں کا موسم بہار ہوں۔ذکرواذکار، درود پاک کی کثرت، سے میرے متعلقین اپنے دل کو منور کرتے ہیں۔کثرت استغفار سے دلوں کے زنگ کو دور کرتے ہیں۔
 میرا تذکرہ قرآن میں ہے۔  میں نزول قرآن کا مہینہ ہوں۔اس لئے لوگ تلاوت کا خاص اہتمام کرتے ہیں۔رات میں تراویح کی شکل میں قرآن سنتے ہیں۔
    میں ۲۹یا ۳۰ دن کے لئے آتا ہوں۔جو میری اہمیت سمجھتے ہیں ان کا ہرلمحہ،ہر پل،میرے ساتھ گذرتا ہے۔جو مجھ سے سچی عقیدت ومحبت رکھتے ہیں وہ ہرحال میں میرا احترام کرتے ہیں۔
کچھ ایسے بھی محروم القسمت ہیں جن کےنزدیک  میری کوئی وقعت نہیں ہے۔میری آمد سے اسے پریشانی ہوتی ہے۔ایسے لوگ اپنی آخرت برباد کرتےہیں۔
   میری زندگی کا ہر لمحہ قیمتی ہے۔جو اپنےقیمتی وقت کو لہو ولعب سے بچا کر یاد خدا میں صرف کرتاہے اور روزہ رکھتا ہےدام تقوی میں وہ گرفتار ہوجاتاہے۔
    پتہ نہیں آئندہ سال کون رہے یا دنیا کو الوداع کہ دے۔یا زندہ ہو پر روزہ رکھنے کا اہل نہ ہو۔ویسےمیرا تو آنا جانا لگا ہی رہے گا۔میری نصیحت مانو ۔میرا مکمل احترام کرو۔ میری ناقدری نہ کرو۔
  تراویح کی پابندی کرو۔سبحان اللہ، الحمدللہ،اللہ اکبر،لاحول ولاقوۃ الاباللہ،استغفراللہ،سےاپنی زبان کوترو تازہ رکھو۔اپنے نبی پر درود شریف کثرت سے پڑھو۔تلاوت کی پابندی کرو۔اپنی وسعت کے مطابق ضرورت مندوں کی مدد کرو۔تہجد کا خاص اہتمام کرو۔اپنے گناہوں پرندامت کے آنسو بہاؤ۔زبان کو بری باتوں سے بچالو۔کان کو بیہودہ باتیں سننے سے باز رکھو۔آنکھوں کی حفاظت کرو۔اپنے حلق میں حلال لقمہ ڈالو۔چاہے ایک ہی نوالہ کیوں نہ ہو۔اپنے نفسانی خواہشات  کو مرضیات خالق پے چلاؤ۔نفس کشی کرو۔افطار میں پہلے کھجور،یا پانی کو ترجیح دو پھر اس کے بعد اللہ کی دی ہوئی دیگر نعمتوں کو ہاتھ لگاؤ۔
   میں ۲۹/یا ۳۰/کو چلاجاؤں گا۔میرا دیا ہوا یہ سبق آخری سانس تک یاد رکھواوراپنی زندگی میں اتارو۔ایسا نہ ہو کہ میرے جانے کےبعد زندگی پہلی حالت پر چلی جائے۔ یہ روٹین پوری زندگی کے لئے مفیداورکارگرہے۔اس سے پہلوتہی زیبا نہیں۔اس وقت کا منظر کتنا حسین ہوگا جب تم باب ریان سے گزرو گے۔تمہارا رب خود تمہارے لئے روزے کا بدلہ بن جائے گا

Monday, August 3, 2020

مطالعہ کے چند بنیادی اصول :- محمد طارق بدایونی ندوی

مطالعہ کے چند بنیادی اصول

  محمد طارق بدایونی ندوی 

ضروری نہیں کہ پھل پھول، جعلی قصے کہانیاں، حکومتی پالیسیاں یا عشق ومعاشقی میں گزر اوقات کی جائے، واقعہ یہ ہے کہ گزر اوقات کے لیے سب سے موزوں اور قابل رشک طریقہ مطالعہ ہے، درج ذیل سطور میں راقم نے اپنے مطالعاتی تجربہ کی روشنی میں مطالعہ سے متعلق چند نکات سپرد تحریر کیے ہیں، ممکن ہے اہل علم میں کسی کو ان سے اختلاف ہو، اس لیے کہ یہ خالص طبعی ذوق کی بنیاد پر لکھے گئے چند پوائنٹس ہیں۔

قلم و قرطاس   

  د وران مطالعہ میں جو تعبیرات اور اہم چیزیں پسند آئیں وہ کاپی یا ایک ڈائری پر فوراً نوٹ کی جائیں۔

زبا ن

صرف آنکھوں سے کتاب پڑھنے پر اکتفا نہ کیا جائے، بلکہ زبان سے الفاظ بھی ادا کیے جائیں اور ہوسکے تو اپنے کانوں تک پڑھنے کی آواز بھی پہنچائی جائے

غرقابی

پڑھتے وقت آپ کی پوری توجہ صرف کتاب پر ہو اور اپنے ذہن کو حتی الامکان منتشر ہونے سے بچایا جائے۔

یکسوئی

مطالعہ کے لیے یہ بھی ضروری ہے کہ اس وقت بھوک اور نیند آپ کے پاس تک نہ بھٹکے، قاری کے لیے ضروری ہے کہ وہ ہمیشہ اپنی صحت کا جائزہ لیتا رہے۔ایک بات یہ بھی دھیان رہے کہ خالی پیٹ اور حالت نیند میں پڑھنا نیز گھریلو امور سے یکسوئی کے بغیر مطالعہ کرنا بالکل بے سود ہے۔

   اعاد ہ    

مطالعہ کے بعد کتاب بند کرکے اپنے ذہن کو یکسو کرے اور بطور خلاصہ جو پڑھا ہے اپنے ذہن میں اس کا اعادہ کرے۔

خلاصہ

مطالعہ کے قیمتی مواد کو ذہن نشین کرنے کا ایک عمدہ طریقہ یہ بھی ہے کہ جو پڑھا جائے اس کا خلاصہ مطالعہ کی ڈائری پر لکھ لیا جائے۔

مذاکرہ 

خلاصہ نہ لکھنے کی صورت میں مطالعہ کے مواد کو ازبر کرنے کا ایک مؤثر ومفید طریقہ مذاکرہ بھی ہے، وہ اس طرح کہ ایسے دوستوں کے ساتھ جو آپ ہی کے مزاج ومذاق کے موافق ہوں، ہفتہ واری محفلیں سجائیں، جن میں ہر ایک اپنے اپنے مطالعہ کی روشنی میں اپنا سبق دہرائے۔

نگہ داشت 

مطالعہ کے لیے ایک تجربہ کار نگراں کا ہونا بہت ضروری ہے، جس کے اشراف میں مطالعہ کیا جاسکے، کیونکہ ہم سمجھتے ہیں کہ بلا نگرانی مطالعہ کما حقہ کر پانا بڑا ہی مشکل ہے، بقول مولانا علی میاں ندوی: "مطالعہ دو دھاری تلوار ہے" جو بگاڑ بھی سکتا ہے اور سنوار بھی سکتا ہے۔

لحاظ

مطالعہ سے قبل اپنے ذوق و طبیعت کا لحاظ بھی ضروری ہے، لہٰذا آپ کی طبیعت کو جس موضوع سے مناسبت ہو، اس کو ملحوظ رکھ کر اپنے مشرف مطالعہ کی ایما کے مطابق کتاب کا انتخاب کریں۔

جگہ

کسی خاص جگہ کا انتخاب ضروری نہیں بلکہ جہاں آپ اپنے آپ کو یکسو جانیں وہاں کتاب نکل کر پڑھنے بیٹھ جائیں ظاہر ہے وہ جگہیں جق جق و شور و غوغے سے دور ہی ہوں گی جیسے پارک ، کھیت کھلیان ، خالی پڑا کھیل گراؤنڈ ، ندی وغیرہ کا کنارہ ، مسجد ، گھر کی منزل کا خالی پڑا کوئی کمرہ جہاں رہائش نہ ہو ، بعد نماز فجر و عصر کے بعد کسی عمارت کی چھت پر وغیرہ۔

انتخا ب

مبتدی طلبہ کے لیے بہترین ٹائٹل اور عمدہ ورق والی کتاب کا انتخاب زیادہ موزوں ہوگا، تاکہ پوری دل جمعی کے ساتھ مطالعہ کیا جاسکے. ابتدائی طالب علم میں ذوق وشوق کے اضافہ اور مطالعہ میں تقویت کے واسطہ یہ نکتہ بہت اہمیت کا حامل ہے۔
x

Saturday, April 4, 2020

ماہ شعبان کی فضیلت اور مسلم معاشرہ



ماہ شعبان کی فضیلت اور مسلم معاشرہ



ماہ شعبان بڑی فضیلتوں اور بر کتوں  کا مہینہ ہے اس مہینہ کا چاند نکلتے ہی رمضان المبارک کا احساس قلب مومن میں بیدار ہو جاتا ہے اس کی فضیلت و برکت سے قلب مومن کو تاز گی محسوس ہوتی ہے  اوراس طرح وہ رمضان المبارک کی تیاری میں مصروف ہو جاتا ہے ۔  اس مہینہ کی فضیلت احادیث مبارکہ سے ثابت ہے ۔حضر ت عائشہ ؓ فر ماتی ہیں کہ میں نے رمضان کے علاوہ رسو ل اللہ ﷺ کو کبھی پورے  مہینے کے روزے رکھتے نہیں دیکھا سوائے شعبان کے کہ اس کے تقریباً پورے دنوں میں آپ روزہ رکھتے تھے۔  (بخاری ) حضرت اسامہ بن زید ؓ فر ماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سوال کیا کہ میں نے آپ ﷺ  کو شعبان سے زیادہ کسی اور مہینہ میں نفلی روزہ رکھتے نہیں دیکھا ۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ یہ رجب اور رمضان کے درمیان ایک مہینہ ہے جس کی بر کت سے لوگ غافل ہیں  اس ماہ میں اللہ تعالی کے سامنے اعمال پیش کیے جاتے  ہیں میری خواہش ہے کہ میرے  اعمال اس حال میں پیش ہو ں کہ میں رو زہ سے رہوں ۔  ( نسائی )
اس مہینہ کی پندرہویں رات کو شب برات کہتے ہیں جس کہ معنی نجات پانے کی رات ہیں ۔ کیونکہ اس رات کو بے شمار گنہگاروں کو معاف کیا جاتا ہے اس لئے  اس رات کو شب برات کہتے  ہیں، اس رات کی فضیلت کے متعلق تقریباً ۱۷ صحابہ اکرام ؓ سے احادیث مروی ہیں جن میں سے  بعض صحیح ہیں۔ حضرت معاذ بن جبل ؓ ر وایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ فرمایااللہ تعالی  پندرہویں شب میں تمام مخلوق کی طرف تجلی فرماتا ہے،  مشرک اور بغض رکھنے والوں کے سوا ساری مخلوق کی مغفرت فرماتا  ہے ( طبرانی)حضرت عثمان بن ابی العاص سے روایت ہے کہ رسو ل اللہ ﷺ نے فرمایا   پندرہویں شب میں اللہ تعالی کی طرف آواز لگائی جاتی ہے کہ کوئی مغفرت مانگنے والا ہے کہ اس کہ  گناہوں کو معاف کروں ، ہے کوئی سوال کرنے والا کہ میں عطا کروں ۔ ہر سوال کرنے والے کو میں عطا کرتا ہوں ، سوائے مشرک اور زنا  کرنے والے کے ( بیہقی) حضرت عائشہ ؓ روایت کر تی ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا  بیشک اللہ تعالی پندرہویں  شعبان کی شب کو نچلے آسمان پر نزول فرماتا ہے اور قبیلہ کلب کی بکریوں کے بالوں کی تعداد میں لوگو ں کی مغفرت فرماتا  ہے اس رات میں بے شمار لوگوں کی مغفرت کی جاتی ہے مگر مشرک ، عداوت کرنے والے، رشتہ تو ڑنے والے ، تکبرانہ طور پر ٹخنوں سے نیچے کپڑا  پہننے والے ، والدین کی نا فرمانی کر نے والے اور شراب پینے والے کی طرف اللہ تعالی کی نظر کرم نہیں ہو تی۔ ( ترمذی)  ان احادیث کی روشنی میں شب برات میں درج ذیل اعمال صالحہ کا انفرادی طور پر خاص اہتمام کر نا چاہیے۔
۱۔ عشاء اور فجر کی نمازیں  وقت  پر ادا کرنا ۔۲۔ نفل نماز یں خاص کر نماز تہجد ادا کرنا ۔ ۳۔ صلوۃ التسبیح پڑھنا ۔ ۴۔ قرآن کی تلاوت کرنا ۔۵۔اللہ کا ذکر کرنا۔ ۶۔ دعائے مغفرت کا اہتمام کر نا ۔ ۷۔ اللہ سے خوب توبہ کر نا ۔ ۸۔ کسی کسی شب برات میں قبرستان جانا  اور دعائے مغفرت کرنا۔  لیکن ہر شب برات میں قبرستان جانے کا خاص اہتمام کرنا کوئی ضروری نہیں کیونکہ حضور ﷺ سے صرف ایک مرتبہ اس رات میں قبرستان جا نا ثابت ہے ۔ ۹۔ اس رات میں انفرادی عبادت کرنا چاہیے لہذا حتی الامکان اجتماعی عبادتوں سے اپنے آپ کو دور رکھنا چاہیے۔ کیونکہ نبی ﷺ سے اس رات میں اجتماعی طور پر کوئی عبادت ثابت نہیں ہے ۔
اسلام ایک مکمل نظام حیات ہے اسی سے انسان کو مکمل رہنمائی ملتی ہے ،شریعت میں جاہلی رسومات ، بدعات و خرافات کی کوئی گنجائش نہیں ،انسان اسلامی تعلیمات کی مکمل پیروی کرکے دنیوی اور اخروی کامیابی حاصل کر سکتا ہے لیکن جاہلی رسومات و بدعات کو اپنا کر کبھی فلاح نہیں  پا سکتا ہے ۔اسلام خدا کا پسندیدہ مذہب ہے یہ تمام بدعات و خرافات اور غیر اسلامی رسو مات کی تردید کر تا ہے ۔ اور اللہ تعالی اور اس کے  رسول کی مکمل پیروی کی دعوت دیتا ہے ۔  لہذااس با برکت مہینہ میں چند غیر ا سلامی رسومات سے اجتناب ضروری ہے تاکہ یہ رات زحمت کے بجائے ہمارے لئے رحمت ثا بت ہو ۔ اور اللہ کی خوشنودی کے بجائے ناراضگی سبب نہ ہو ، لہذا مندرجہ ذیل اعمال احادیث سے ثابت نہیں ۔۱۔ حلوا پکانا ۔ ۲۔ آتش بازی کرنا ۔۳۔ قبرستان میں عورتوں کا جانا۔ ۴۔ اجتماعی طور پر قبرستان جانا ۔۵۔قبرستان میں چراغاں کرنا ۔ ۶۔ مختلف قسم کے ڈیکوریشن کا اہتمام کرنا۔ ۷ ۔ عورتوں اورمردوں کا اختلاط کر نا ۔ ۸۔ قبروں پر چادر چڑھانا ۔اللہ تعالی  ہمیں صراط مستقیم پر چلنے کی توفیق عنایت فرمائے اور اس مہینہ اور شب برات کی قدر کرنے اور عبادت و تلاوت اور توبہ و استغفار کی توفیق مر حمت فرمائے اور غیر اسلامی رسومات و بد عات و خرافات سے ہماری مکمل حفا ظت فر مائے۔
     


اداریہ تعمیر افکار


محبت مجھے ان جوانوں سے ہےستاروں پہ جو ڈالتے ہیں کمند


دنیوی نظام میں خام مال کا سقم اور عمدہ چیز کا حسن ہر ایک پر آشکارا ہے، خدا کا تکوینی نظام ہے کہ ہمیشہ نفع بخش چیز باقی رہتی ہے، اور بے حیثیت چیز کنارہ جا لگتی ہے، اللہ کا یہ قانون جامد اور غیر جامد تمام اشیاء میں یکساں ہے، معمولی قیمت کا قلم اگر روشنائی سے بھرا ہو تو انسان دل کے پاس رکھتا ہے، اور اگر روشنائی ختم ہوجائے تو کوڑے دان میں بھی جگہ باقی نہیں رہتی۔ زمین پر پڑی بے حیثیت لکڑی ہر کسی کے قدم سے روندی جاتی ہے، لیکن جب انسان کے کان میں خارش ہو اور کوئی چیز نہ ملے تو اس وقت وہ حقیر لکڑی ہزاروں روپیے سے قیمتی بن جاتی ہے۔ ٹھیک اسی طرح دنیا کی جو قومیں انسانیت کے لیے نفع بخش ہوتی ہیں، وہ تیزوتند باد مخالف اور بھیانک طوفان کے بھنور کا کبھی شکار نہیں ہوتیں، بلکہ وہ ہمیشہ منصہ شہود پر باقی رہتی ہیں اور یکساں طور پر پوری انسانیت ان کی نافعیت تسلیم کرتی ہے۔ اورجو قومیں حقیر نظریات کی حامل یا فاسد مادہ سے تشکیل پاتی ہیں، ان کا وجود ہی چند سالوں میں کالعدم ہوجاتا ہے۔
ہماری دانست میں امت مسلمہ تاریخ کی واحد ایسی قوم ہے، جس نے روزِ اول سے مخالفت کا سامنا کیا، سازشوں کا مقابلہ کیا، مگر تمام کلفتوں کے باوجود اس کی روشنی آج بھی تاباں ہے۔اس کامیابی کی پہلی اور بنیادی وجہ خدا کی جانب سے وعدۂ حفاظت ہے، پھر مسلمانوں کی جہد مسلسل، ان کا اخلاص اور عزم و ہمت بھی۔ تاریخ شاہد ہے کہ ہمیشہ امت مسلمہ میں ایسی انقلابی شخصیات پیدا ہوتی رہی ہیں جنہوں نے وقت کا دھارا بدل دیا۔ غور کیا جائے تو یہی شخصیات ہمارا بہترین اور لائق فخر مال ہیں، اور یہی شخصیات امت مسلمہ کے نفع بخش ہونے کا زندہ ثبوت ہیں۔ ان کی زندگیاں ہمارے لیے قابل عبرت ہیں۔
موجودہ دور میں ظاہری طور پر اگر ہم تعلیمی، اقتصادی، سماجی، رفاہی اور سیاسی میدانوں میں جائزہ لیں، تو ہمیں نظر آتا ہے کہ آج ایسی شخصیات عنقا ہیں، جنہیں امت کا اوریجنل مال اور بہترین سرمایہ تصور کیا جاسکے۔ افسوس کی بات ہے کہ عموماًاہم مناصب پر فائز مسلم چہرے بھی آج اسلام کی ترجمانی سے محروم ہیں، اور مغربی افکار کے حامل و شیدائی ہیں۔یہی وجہ ہے کہ آج امت مسلمہ اقوام عالم میں اپنی نافعیت کا ثبوت پیش کرنے سے قاصر ہے اور چہار جانب سے دشمنوں کا لقمہ تر بنی ہوئی ہے۔ ظاہر بات ہے کہ اس میں ہماری کوتاہی کا دخل ہے، یہ تو اسلام کی خوبی ہے کہ اس کی فطرت میں بلندی مقدر ہے، ورنہ اگر امت مسلمہ آسمانی پیغام کی نسبت نہ رکھتی ہوتی تو نہ جانے کب کا وجود مٹ چکا ہوتا۔ مگر ہمیں محض اس نسبت پر مطمئن ہونے کی ضرورت نہیں ہے، بلکہ فکر کی ضرورت ہے کہ آخر پانی کہاں مر رہا ہے، ہم سے کون سی ایسی چوک ہورہی ہے کہ تمام تر کوششوں کے باوجود ہم اپنی نافعیت پیش کرنے سے قاصر ہیں۔
اس سلسلہ میں سب سے پہلی اور مؤثر فکر یہ ہے کہ ہم ایسا معاشرہ تشکیل دیں جس میں نسل نو فکری طور پر مسموم فضاؤں سے محفوظ ہو، اس کی سوچ بیدار ہو اور ذہن اسلامی ہو، اس کا عقیدہ سلامت ہو اور ایمان پختہ ہو، اس کی طبیعت میں دینداری ہو اور مزاج میں نرمی ہو، اسے اسلامی تعلیمات پر پورا انشراح ہو اور وہ اسلامی اخلاق کی حامل ہو، وہ زہریلے نصاب سے باخبر ہو اور تعمیری نصاب کی علم بردار ہو، وہ سوشل میڈیا کے مفید پہلوؤں سے واقف اور اس کی محرک ہو اور اس کے مضر پہلوؤں سے مجتنب ہو۔واقعہ یہ ہے کہ موجودہ دور میں اس کام کی بڑی اہمیت ہے، اگر ہم نے نسل نو کو مادیت کی ہوس میں بے مہار چھوڑ دیا تو تاریخ میں ہمارا نام ایک ظالم کی حیثیت سے شمار ہوگا، اور اگر ہم نے کچھ صبر سے کام لیا اور نسل نو کی نشو و نما میں کلیدی کردار نبھادیا تو امید ہے کہ آنے والی نسل دنیائے عالم میں اسلام کے پھریرے لہرنے کا نظارہ کرے گی۔
پیش نظر رسالہ سہ ماہی ’’تعمیر افکار‘‘ کی کوشش ہے کہ وہ قارئین تک ایسا مواد پہنچائے جو نسل نو کی نشو ونما میں مؤثر کردار ادا کرے، ہمیں امید ہے کہ اس رسالہ میں قارئین کو ان کی مطلوبہ چیزیں حاصل ہوں گی، اور وہ اس پر عمل بھی کریں گے،اور یہی رسالہ کا مشن ہے۔

Wednesday, January 8, 2020

اداریہ حدیث دل

حدیث دل 

محمد نظام الدین ندوی

علمی و فکری ذوق زندہ قوموں کی ایک اہم نشانی ہے، جس طرح انسانی جسم خون کے بغیر بے جان ہے، ٹھیک اسی طرح
 وہ قوم بھی چوب خشک کی مانند ہے جو علم سے محروم ہو، اور اس کے ذوق سے نا آشنا ہو، انسان کی فطرت میں اللہ تعالیٰ نے جمود نہیں رکھا،بلکہ اس کے مزاج میں بعض ایسے اوصاف ودیعت کیے ہیں، جن کی بنیاد پر وہ ہمیشہ اپنے سامنے تمام طاقتوں کو زیر کرلیتا ہے، اب اگر انسان اس علم سے دور ہو جس میں خدا تعالیٰ کی رہنمائی شامل ہے، تو پھر اس کے یہ اوصاف ساری انسانیت کے حق میں مضر ثابت ہوتے ہیں، اور اگر انسان علم حقیقی کے قریب ہو تو پھر وہ پوری کائنات کے لیے رحمت ثابت ہوتا ہے، امت مسلمہ کو اسی لیے علم حقیقی سے وابستگی کی پہلی وحی میں تلقین کی گئی اور علم سے اس کا رشتہ غیر معمولی مضبوط کیا گیا، تاکہ اس کی رحمت و نافعیت تاقیامت دنیا کی دیگر اقوام کے مقابلہ میں باقی رہے۔چنانچہ جب تک امت مسلمہ نے اس کا پاس رکھا، تب تک دنیا اس کے ذریعہ ہونے والی ترقیات کی شاہد رہی۔ اور دشمن کی یلغار ہر چہار سمت سے ناکام ہوئی، لیکن جب علمی پسماندگی کا مرض مسلمانوں میں سرایت کرگیا تو دنیا پر اس کا اثر پڑا، انسانی علوم حیوانیت کا درس دینے لگے اور ایک عمومی اضطرابی کیفیت دنیا کے منظرنامے پر عیاں ہونے لگی۔ان حالات میں دنیا کے مختلف خطوں میں اہل علم مسلمان طبقہ پر ضروری ہے کہ اس پسماندگی سے اوپر اٹھنے کے جو طریقے کتاب و سنت کی روشنی میں ممکن ہوسکیں، وہ اختیار کریں، اور اپنے اپنے علاقوں کی ضرورت کو محسوس کرتے ہوئے علمی و فکری ذوق پیدا کرنے کا ماحول بنائیں۔
الحمدللہ چک پہاڑ سمستی پور کے علاقہ کے لیے یہ بڑی خوش آئند بات ہے کہ اللہ تعالیٰ نے وہاں بھی کچھ افراد کو یہ توفیق بخشی کہ سرد ماحول میں فضا کو کچھ حرارت دے سکیں، اور اس کے لیے ’’الہدی اسلامی مکتب‘‘ کا نظام قائم کیا گیا، ایک لائبریری کا قیام بھی عمل میں آیاجس میںچار الماریوںسے زائدکتابیںجمع ہو گئیں ہیں اور علاقہ کی مختلف جگہوں پر بچوں کے معیار کے مطابق اسلامی کوئز کے مسابقہ جات کا نظم بھی کیا گیا، اور اس کے علاوہ بھی کام کی مختلف ایسی شکلیں اختیار کی گئیں، جن سے علمی و فکری ماحول پروان چڑھتا ہے۔
یہ شمارہ جو کہ نذرِ قارئین ہے، دراصل اسی سلسلہ کا امتداد ہے، ہمارا ارادہ ہے کہ اگر توفیق الٰہی شامل حال رہی تو ان شاء اللہ ہر تین مہینہ میں ایک علمی و فکری اور اصلاحی ترجمان بھی نکالیں گے، چونکہ ابھی مالی وسائل کی کمی ہے، اس لیے ’’الحکمۃ ضالۃ المؤمن‘‘ کے تحت ارادہ ہے کہ ابھی آن لائن برقی میگزین(پی ڈی ایف) کی شکل ہی میں شائع کریں۔ ربیع الاول کی مناسبت سے ’’الہدی‘‘ کا یہ پہلا شمارہ سیرت کے مضامین پر مشتمل ہے، ہماری کوشش ہوگی کہ آئندہ شماروں میں بھی آپ تک ایسا مواد فراہم کیا جائے جو آپ کے لیے دلچسپی کا سامان ہو اور ہمارے لیے بھی ذریعہ آخرت ثابت ہوسکے۔

اسلاف کا شوق مطالعہ ۔۔۔۔۔۔مگر وہ علم کے موتی کتابیں اپنے آباء کی !محمد قمر الزماں ندوی ۔۔۔۔۔۔

اسلاف کا شوق مطالعہ ۔۔۔۔۔۔ مگر وہ علم کے موتی کتابیں اپنے آباء کی ! محمد قمر الزماں ندوی ۔۔۔۔۔۔ مدرسہ نور الاسلام موئی کلاں کنڈہ پرتاپگڑھ 95...